سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
اسلام کاسیاسی نظام شورائیت،عدل،مساوات اوراحتساب پرمبنی تھا۔مگرآج؟ہرملک اپنی ریاست،ہرریاست اپنے مفادمیں گم۔قومیں قومی مفادات میں الجھی ہیں،اورامت کے تصورکاجنازہ نکل چکاہے اورامت مسلمہ اجتماعی سیاسی انتشارمیں مبتلاہے۔
نہ کوئی سعدؓبن معاذ،نہ کوئی عمرؓباقی
ہے قیادت کی جگہ،دولتِ بے کارفقط
اخلاقی زوال اورروحانی بے حسی کایہ عالم ہے کہ امت کردارسے خالی ہوگئی ہے۔ہمارے بازارجھوٹ سے لبریز،عدالتیں انصاف سے خالی،اورمعاشرے فحاشی ومادہ پرستی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔سرسے لیکرپاں تک علمی انحطاط اورتعلیمی زوال میں ڈوبے ہوئے ہیں لیکن اقتدارکیلئے غیرت اورحمیت تک کوگروی رکھ دینے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔
نہ دیانت نہ شرافت،نہ محبت باقی
یہی ہے امتِ مسلمہ کی سب سے بڑی محرومی
آج امت سیاسی تقسیم اورقیادت کے بحران میں غرق ہے۔اس کے پاس نہ ابوبکرؓ،عمرؓ،عثمانؓ وعلیؓ توکیاصلاح الدین ایوبی،محمد بن قاسم اورٹیپوسلطان بھی تو نہیں رہے۔ہرملک، ہر قوم،ہرنسل،اپنی علیحدہ شناخت میں قیدہے۔قیادتیں یاتوکرپشن کی آلودہ ہیں یامغرب کی غلام۔
ہم سمجھتے تھے کہ لائے گی فراغت تعلیم
کیاخبرتھی کہ چلاآئے گاالحادبھی ساتھ
اوآئی سی ہویاعرب لیگ،سب بے جان ادارے ہیں۔صرف رسمی اجتماعات ہیں۔قراردادیں پاس ہوتی ہیں،تصاویرلی جاتی ہیں،مگرنہ عمل ہوتاہے نہ نتیجہ۔وحدتِ امت کافقدان ایک عذاب کی طرح ہم پرطاری ہے۔ہرمظلوم مسلمان تنہاہے۔فلسطین جل رہاہے،کشمیر سلگ رہاہے،شام اجڑچکاہے،اورہم فقط قراردادیں پاس کررہے ہیں:
اقبال بھی رویاتھااس حالِ زبوں پر
امت ہے کہ خوابِ غفلت میں ہے مدہوش ابھی تک
پھراب سوال یہ ہے کہ حل کیاہے؟اس امت کے دردکامداوااورراہِ نجات اسی وقت ممکن ہے جب ہم قرآن سے عملی وابستگی اختیار کریں۔سیرتِ رسول کوزندگی کے ہرشعبے میں نافذ کریں۔علم کومقصدِحیات بنائیں نہ کہ محض روزگارکاذریعہ۔اپنے کردارکو پیغمبرانہ شان دیں۔امت کے تصورکوقومی تعصب پرمقدم رکھیں۔امت کواپنے تعلق کورب سے جوڑناہوگا ۔نمازکوروح بناناہوگا،قرآن کوہدایت،اورسیرتِ طیبہ کورہنمائی کامرکز۔یادرکھیں:جب امت اپنی شناخت کھوبیٹھے،تواللہ اسے ذلت میں مبتلاکردیتاہے،تاکہ وہ پھرسے اپنی اصل کوتلاش کرے۔
ہمارے نصاب میں قرآن وسنت،جدیدسائنس،تاریخ،اورتہذیب کاتوازن ہو۔ہمیں غزالی اورنیوٹن،دونوں کے وارث بنانے ہوں گے۔ یونیورسٹیاں صرف ڈگری نہیں، شخصیت سازی کامرکزہوں۔مدارس میں سائنسی بصیرت اورجامعات میں روحانی تربیت ہو۔فکرکی قیدیں توڑنی ہوں گی۔ہمیں قرآن کووقت کی زبان میں پڑھناہوگا۔ہمیں اختلاف کونعمت سمجھناہوگا،اوراجتہادکوعلم کاشعوردیناہوگا۔ تجدیدِایمان اورتعلق باللہ کی رسی کومضبوطی سے تھامناہوگا۔ہرفردکوصادق،امین،محسن اورنیکوکاربنناہوگا۔گھرسے معاشرہ بنتاہے اورمعاشرے سے قوم۔ہمیں صبر،حلم،تواضع،سخاوت،اورعدل کواپنی شناخت بناناہوگا۔۔۔۔۔۔۔کردارکے غازی بنیں،نہ کہ گفتارکے بادشاہ!
یاد رکھیے!وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جوعلم وعمل کی راہوں پرچلتی ہیں،جووقت کی نبض پہ ہاتھ رکھتی ہیں،جواپنے ماضی سے سبق سیکھتی اورحال کوتعمیرکرتی ہیں۔میری یہ بات یادرکھیں کہ قومیں مرجاتی ہیں،جب ان کے دلوں میں زندگی کی تمناختم ہوجائے،جب ان کے دماغ سوچنے سے انکارکردیں اوران کی روحیں جمودکاشکارہوجائیں۔لیکن جوقومیں موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالناسیکھ لیں تویہ زندگی جوموت ہی کی امانت ہے،وہ سراٹھاکرجینے کاسلیقہ سکھادیتی ہے۔
یہ دنیاایمان،علم اورجہادسے بدلتی ہے،مگرجب امت ان تینوں کوچھوڑدے،تودنیااسے بدل دیتی ہے۔آج ہمیں ازسرنوتعمیرِامت کابیڑا اٹھاناہوگا۔یہ کام فردسے شروع ہوگا،دل کی اصلاح سے،نیت کی پاکیزگی سے،کردارکی مضبوطی سے۔یہ ذہن نشین رہے کہ زبان کا حسن قوم کے باطن کاآئینہ ہوتاہے۔آج ہماری زبانوں سے محبت،اتحاداورخیرکی بجائے نفرت،تفرقہ اورتعصب کی بوآتی ہے۔ہمیں اب وہی زبان درکارہے جودلوں کوجوڑدے،وہی قلم درکارہے جوامت کے خوابوں کوتعبیردے،وہی فکردرکارہے جوزمانے کا رخ بدل دے۔پھرمجھے اپنے مرشد اقبال یادآگئے:
دیارعشق میں اپنامقام پیداکر
نیازمانہ نئے صبح وشام پیداکر
میراطریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیداکر
سیاسی بیداری اورقیادت کی اصلاح کیلئے امت کوباشعورووٹربنناہوگا۔ہمیں ایسی قیادت کولاناہوگاجوقرآن سے جڑی،سنت سے روشن،اورامت کی خدمت سے مزین ہو۔وحدتِ امت اوربین الاقوامی شعوراجاگرکرنے کیلئے قومیت،رنگ،نسل،زبانسب بعد میں،امت پہلے۔ہمیں ایک پرچم تلے جمع ہوناہے، جولاالہ الااللہ کاہے۔
شب تاریک سہی،مگرچراغ جلانالازم ہے
اب جورکے وہ خسارہ،جوبڑھے وہی مقدر
آئیے!ہم ایک ایساانقلاب برپاکریں جوپہلے دلوں کوبدلے،پھرمعاشروں کو،پھردنیاکو۔ایساانقلاب جوعلم سے ہو،عدل سے ہو،اخلاق سے ہو۔ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو صرف ڈاکٹراورانجینئربنانے کی فکر نہ کریں،بلکہ انہیں ابنِ سینا،ابنِ رشد،امام غزالی،اورابن تیمیہ جیسابنادیں۔انہیں علم کاپیاسااورکردارکاپیکربنائیں۔
یادرکھیے!امت کازوال عارضی ہے،مگرشرط یہ ہے کہ ہم خودکوبدلنے کاارادہ کریں۔ قرآن کہتاہے:بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتاجب تک وہ خوداپنی حالت نہ بدلے۔
آئیے ہم اپنے آپ کوبدلیں تاکہ ہماری قوم بدلے۔اوریہ دنیاپھرسے اسلام کی روشنی سے جگمگائے۔آج ہم یہاں صرف خطاب سننے نہیں،بلکہ تاریخ میں اپنے کردارکی تجدیدکیلئے جمع ہیں۔ہمیں خودوہ ابراہیم بنناہوگاجوباطل کے بت توڑے،وہ محمدبن قاسم بنناہوگا جوحق کیلئے سرزمینوں کوتسخیرکرے،وہ صلاح الدین بنناہوگاجوبیت المقدس کوآزادکرائے،وہ طارق بن زیادبنناہوگاجومنزل کے حصول کیلئے اپنی کشتیاں جلاکراپنے لشکرکوپیغام دے کہ موت کے اندرہی وہ زندگی ہے جوفتح کاپیام لیکرآئے۔توآئیے،ہم آج یہ عہدکریں کہ: ہم خودکوبدلیں گے۔ہم قرآن سے جڑیں گے۔ہم علم کوہتھیاربنائیں گے۔ہم کردارکواپنازیوربنائیں گے۔اورہم امت کوایک بارپھر’’خیرامت‘‘بنانے کاعزم کریں گے۔
لہذاہمیں اب وہ قوم بنناہے جوقرآن سے وابستہ ہو،سیرت سے روشنی لے،علم سے آشناہو،اخلاق سے مزین ہو،اورکردارمیں ممتاز ہو۔وقت کی یہ صداہمیں پکاررہی ہے:اٹھو!وہ ابراہیم بنوجوباطل کے ایوانوں میں توحیدکی مشعل روشن کرے۔وہ محمدبن قاسم بنو جوظلم کی سرزمین پرعدل کاپرچم لہرائے۔وہ صلاح الدین بنوجو قبلہ اول کوآزاد کرائے۔یہ دور، صاحبو،اپنے ابراہیم کی تلاش میں ہے۔کیاہم وہ چراغ جلانے کوتیارہیں؟کیاہم وہ آگ برداشت کرنے کوتیارہیں؟کیاہم اپنی راحت چھوڑکر،امت کادرداپناسکتے ہیں؟اگر جواب ہاں میں ہے تویادرکھو!
شبِ تاریک ہے،لیکن چراغ جلاناہوگا
لہوسے اپنے،یہ دیوارِظلم گراناہوگا
پس آئیے،ہرفردایک چراغ بنے۔ہردل میں ایمان کی آگ ہو،ہرہاتھ میں عِلم کاپرچم،اورہرقدم میں کردارکاوزن ہو۔تب جاکرامت کی قسمت بدلے گی،اورہماراکل سنورے گا۔امتِ مسلمہ کی زبوں حالی کاشکوہ کرنے کے بجائے اب ہمیں اصلاحِ امت کاآغازکرناہوگا۔ ہرفرداپنے حصے کی شمع جلائے۔
شکوہ ظلمت شب سے توکہیں بہترتھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے
ہرماں محمدبن قاسم پیداکرے،ہرباپ صلاح الدین ایوبی کی تربیت کرے،ہراستادامام مالک جیسا علم دے،اورہرقائدعمربن خطاب جیساعدل کرے۔تب جاکرہم کہہ سکیں گے ، ہم وہ امت ہیں جسے اللہ نے خیرِامت بنایا،جوامربالمعروف اورنہی عن المنکرکافرض اداکرتی ہے۔خدا کرے کہ وہ دن جلدآئے،جب امتِ مسلمہ کاسورج پھرسے طلوع ہو،اور دنیاایک بارپھراسلام کی روشنی سے جگمگا اٹھے اورامت مسلمہ کی جاری زبوں حالی کاخاتمہ ہو۔آمین
والسلام علیکم ورحم اللہ و برکاتہ
(فکروعمل لندن :لیکچربروزاتوار13جولائی2025ء)