وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انسانی اسمگلنگ کے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے خصوصی ٹاسک فورس قائم کر دی ہے، جس کی سربراہی خود وزیرِ اعظم کریں گے۔
اس فیصلے کا مقصد پاکستان میں بڑھتی ہوئی انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی میں پاکستانیوں کی اموات جیسے دلخراش واقعات کے سدباب کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہے۔وزیرِ اعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وزیرِ اعظم کو غیر قانونی تارکین وطن کی کشتی حادثے میں ملوث گروہوں، گرفتاریوں، ایف آئی آرز اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک چھ بڑے انسانی اسمگلنگ گروہ پکڑے جا چکے ہیں اور 12 ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ 25 افراد کی شناخت کی جا چکی ہے اور 3 اہم افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔اسی دوران، 16 افراد کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں تاکہ ان کے بیرونِ ملک جانے پر فوری روک تھام کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، اسمگلنگ کے جرائم میں ملوث افراد کی گاڑیوں، بینک اکاؤنٹس اور اثاثہ جات ضبط کیے جا رہے ہیں تاکہ ان کے خلاف کارروائی مزید تیز کی جا سکے۔
ایف آئی اے کے مشتبہ اہلکاروں اور افسران کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے۔وزیرِ اعظم نے اس اجلاس میں تمام اداروں کو ہدایت دی کہ وہ انسانی اسمگلنگ کے گروہوں کو بے نقاب کریں اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسمگلروں کو عبرتناک سزائیں دی جائیں گی تاکہ دیگر افراد کو اس جرم کا ارتکاب کرنے کی ہمت نہ ہو۔اجلاس میں وزیرِ اعظم کے ساتھ وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں بیرونِ ملک جانے والی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کو بھی پیش کیا گیا، جس سے مزید کارروائیوں کی راہ ہموار کی جائے گی۔