کیا آئین میں نہیں لکھا سپریم کورٹ آرڈر تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز کو ماننا لازم ہے؟جسٹس عقیل
کیا انتظامی کمیٹی جوڈیشل آرڈر کے درست ہونے کا جائزہ لے سکتی ہے؟ جسٹس منصور علی شاہ
اسلام آباد ( آن لائن)سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار توہین عدالت کیس میں دلائل کے بعدفیصلہ محفوظ کرلیاہے جبکہ جسٹس عقیل عباسی نے کہاکہ کیا آئین میں نہیں لکھا سپریم کورٹ آرڈر تمام ایگزیکٹو اتھارٹیز کو ماننا لازم ہے؟کیا سپریم کورٹ کی انتظامی کمیٹی پر یہ آئینی شق لاگو نہیں ؟۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ کیا انتظامی کمیٹی جوڈیشل آرڈر کے درست ہونے کا جائزہ لے سکتی ہے؟ ۔جمعرات کو سپریم کورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔عدالتی معاون حامد خان نے دلائل سے ہوا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے پوچھا کہ کیا جوڈیشل آرڈر کو انتظامی سائیڈ سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا؟ جس پر حامد خان نے کہا کہ انتظامی آرڈر سے عدالتی حکمنامہ تبدیل نہیں ہوسکتا، سپریم کورٹ کی تشکیل آرٹیکل 175 کے تحت ہوئی ہے، جوڈیشل پاور پوری سپریم کورٹ کو تفویض کی گئی ہے،یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں مخصوص ججز ہی سپریم کورٹ کی پاور استعمال کرسکتے ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا جوڈیشل آرڈر کی موجودگی میں ججز کمیٹی کیس واپس لے سکتی تھی؟وکیل حامد خان نے کہا کہ کچھ ججز کو کم اختیارات ملنا اور کچھ کو زیادہ ایسا نہیں ہوسکتا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا یہ سوال الگ ہے۔ اگر ہم آرٹیکل 191 اے کی تشریح کا کیس سنتے تو یہ سوال اٹھایا جاسکتا تھا، ہمارے سامنے کیس ججز کمیٹی کے کیس واپس لینے سے متعلق ہے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس امین الدین خان ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، بادی النظر میں دو رکنی ججز کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کیا، اگر ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظرانداز کرے تو معاملہ فل کورٹ میں جاسکتا ہے؟ اس سوال پرمعاونت دیں۔جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے اس معاملے پر ابہام تو ہے۔جسٹس عقیل عباسی نے استفسار کیا کہ حامد خان صاحب آپ آرٹیکل 191 اے کو کیسے دیکھتے ہیں؟ماضی میں بنچز تشکیل جیسے معاملات پر رولز بنانا سپریم کورٹ کا اختیار تھا، اب سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات ختم کر دیئے گئے ہیں، یہ خیر چلیں 26ویں ترمیم کا سوال آجائے گا۔جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ کیا دنیا کے کسی ملک میں بنچز عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بناتا ہے؟ حامد خان صاحب آپ کے ذہن میں کوئی ایک ایسی مثال ہو؟ جس پر حامد خان نے کہا کہ ایسا کہیں نہیں ہے، بینچ جوڈیشری ہی بناتی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 191 اے کے تحت آئینی بینچ جوڈیشل کمیشن بنائے گا۔جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ 191 اے کو سامنے رکھیں تو کیا یہ اوورلیپنگ نہیں ہے؟حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کی پاور کو انڈر مائن نہیں کرسکتی، یہ الٹی میٹ پاور ہے جو عدالت نے دی ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کمیٹی جوڈیشل آرڈر فالونہیں کرتی تو پھر کیا ہوگا۔ جس پر حامد خان نے کہا کہ کمیٹی کے پاس آئینی بینچ کے کیسز فکس کرنے کا اختیار ہے۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔