یورپی یونین کی جانب سے جنگ کے خطرات کے پیش نظر یورپی سکیورٹی کونسل بنانے کی تجویز

یورپی یونین کی جانب سے جنگ کے خطرات کے پیش نظر یورپی سکیورٹی کونسل بنانے کی تجویز

برسلز: یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لاین نے یورپی پارلیمنٹ میں اپنے سالانہ ’’اسٹیٹ آف دی یونین‘‘ خطاب کے دوران یورپی سکیورٹی کونسل کے قیام کی تجویز پیش کردی ہے۔

مجوزہ فورم میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے ساتھ برطانیہ، ناروے، یوکرین، کینیڈا اور دیگر شراکت دار ممالک کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔وان ڈیر لاین نے کہا کہ یورپ کو بدلتے ہوئے سکیورٹی ماحول کے پیش نظر اپنی مشترکہ دفاعی اور سکیورٹی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق یورپ کو سائبر حملوں، تخریب کاری، آتش زنی اور ڈرونز کی دراندازی سمیت ایسے ہائبرڈ خطرات کا سامنا ہے جو روایتی مسلح جارحیت کی سطح تک نہیں پہنچتے لیکن قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔یورپی کمیشن کی صدر نے کاؤنٹر ہائبرڈ پلے بک اور ایمرجنسی سکیورٹی پروٹوکول متعارف کرانے کی تجویز بھی دی۔ ان کے مطابق اگر کسی رکن ملک کو سنگین نوعیت کے ہائبرڈ خطرے کا سامنا ہو تو دیگر یورپی ممالک کو ایک جگہ جمع ہوکر مشترکہ ردعمل پر مشاورت کا طریقہ کار وضع کرنا چاہیے۔وان ڈیر لاین نے اس مجوزہ نظام کو نیٹو کے آرٹیکل 4 سے مشابہ قرار دیا، تاہم واضح کیا کہ یہ یورپی یونین کے اپنے ڈھانچے کے تحت کام کرے گا۔ ان کے مطابق مقصد کسی رکن ملک کو درپیش خطرے کے جواب میں یورپی سطح پر فوری رابطہ، مشترکہ ردعمل اور مزید کشیدگی کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپ کو اپنی سلامتی کے لیے زیادہ ذمہ داری خود اٹھانے کی ضرورت ہے، تاہم نیٹو کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی زور دیا۔ یورپی کمیشن کے مطابق مجوزہ یورپی سکیورٹی حکمت عملی کا مقصد موجودہ نظام کو نئے نوعیت کے سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر بنانا ہے۔

وان ڈیر لاین نے طویل عرصے سے زیر بحث یورپی رہنماؤں کے ایک ایسے فورم کی ضرورت پر بھی زور دیا جو براعظم کی سلامتی پر توجہ مرکوز کرے اور جس میں کینیڈا، یوکرین، برطانیہ اور ناروے جیسے شراکت دار ممالک بھی شامل ہوں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ خطرات کی نوعیت اور پیمانے کے باعث اس معاملے پر پیش رفت کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔یورپی کمیشن کی صدر نے اپنے خطاب میں یورپی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے یورپی انسٹرومنٹ فار اسٹریٹجک اینیبلرز کے قیام کا بھی اعلان کیا، جس کا مقصد فضائی و میزائل دفاع، اسٹریٹجک نقل و حمل، خلائی اور سائبر صلاحیتوں سمیت اہم دفاعی شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری اور صلاحیت پیدا کرنا ہے۔مجوزہ یورپی سکیورٹی کونسل کی مکمل ساخت، اختیارات اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔ تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ نیا فورم نیٹو کے موجودہ سکیورٹی ڈھانچے کے ساتھ کس طرح کام کرے گا اور آیا اس کے نتیجے میں موجودہ نظام کی تکرار تو نہیں ہوگی۔