سگنل فری لاہور — پیدل چلنے والوں کی چیخ کون سنے گا؟

 شیخ بشارت احمد
لاہور کو ترقی یافتہ اور جدید شہر بنانے کے لیے گزشتہ برسوں میں متعدد فلائی اوورز اور انڈر پاس تعمیر کیے گئے۔ فیروزپور روڈ، جیل روڈ اور مال روڈ جیسے اہم راستوں کو سگنل فری بنادیا گیا ۔ رفتار بڑھی، سفر کا وقت کم ہوا، مگر ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس ترقی کی قیمت اپنی جان خطرے میں ڈال کر ادا کر رہا ہے — اور وہ ہے پیدل چلنے والا شہری۔
سڑک پار کرنا — زندگی اور موت کا کھیل
آج لاہور کی مصروف شاہراہ پر سڑک عبور کرنا گویا زندگی اور موت کے درمیان قدم رکھنے کے مترادف ہے۔ گاڑیاں بے تحاشا رفتار سے گزرتی ہیں۔ رکنے کا تصور ختم ہو چکا ہے۔ ڈرائیور حضرات پیدل چلنے والوں کو بوجھ سمجھتے ہیں، حق نہیں۔بزرگ شہری، جن کے قدم پہلے ہی کمزور ہوتے ہیں، سڑک کے کنارے کھڑے طویل انتظار کرتے رہتے ہیں۔ خواتین بچوں کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے خوف زدہ کھڑی رہتی ہیں۔ اسکول کے طلبہ اور محنت کش طبقہ روزانہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سڑک پار کرتے ہیں۔کئی بار ایسا ہوتا ہے کہ شہری آدھی سڑک عبور کر لیتا ہے اور درمیان میں تیز رفتار گاڑیوں کے ہجوم میں پھنس جاتا ہے — نہ آگے جا سکتا ہے، نہ پیچھے لوٹ سکتا ہے۔
اوور ہیڈ برج — سہولت یا مشقت؟
کچھ مقامات پر اوور ہیڈ برج تعمیر کیے گئے ہیں، مگر ان تک پہنچنے کے لیے طویل فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے۔ بزرگ افراد کے لیے سیڑھیاں چڑھنا ایک آزمائش بن جاتی ہے۔ اکثر پلوں پر نہ مناسب روشنی ہوتی ہے، نہ صفائی، اور بعض جگہوں پر سیکیورٹی کے خدشات بھی پائے جاتے ہیں۔ نتیجتاً لوگ مجبوراً سڑک ہی سے گزرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا شہری کو محفوظ راستہ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری نہیں؟
فٹ پاتھوں کا المیہ
فٹ پاتھ جو پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص ہوتے ہیں، بیشتر مقامات پر تجاوزات، ریڑھی بانوں اور پارکنگ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ شہری سڑک پر آ جاتے ہیں اور تیز رفتار ٹریفک کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔زیبرا کراسنگ یا تو مٹ چکی ہیں یا ان کی کوئی عملی حیثیت باقی نہیں رہی۔ قانون موجود ہے مگر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر۔
بڑھتے حادثات — خاموش اعداد و شمار
روزانہ ٹریفک حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ اکثر متاثرین وہی لوگ ہوتے ہیں جو پیدل چل رہے ہوتے ہیں۔ مگر افسوس کہ یہ خبریں چند سطروں تک محدود رہتی ہیں، اور نظام اپنی رفتار سے چلتا رہتا ہے۔

ترقی اگر انسان کو غیر محفوظ بنا دے تو وہ ترقی نہیں بلکہ بے حسی کی علامت ہے۔
فوری اقدامات کی ضرورت
ہر مصروف شاہراہ پر محفوظ اور قریب ترین مقامات پر اوور ہیڈ برج تعمیر کیے جائیں۔
فٹ پاتھوں سے فوری تجاوزات ختم کی جائیں۔
رفتار کی سخت نگرانی اور جرمانوں میں اضافہ کیا جائے۔
زیبرا کراسنگ کو نمایاں اور مؤثر بنایا جائے۔
عوام میں پیدل چلنے والوں کے احترام کا شعور اجاگر کیا جائے۔

ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور شہری کا تحفظ کیسے کرتا ہے۔ لاہور کی چمکتی سڑکوں پر دوڑتی گاڑیاں ترقی کی علامت ہو سکتی ہیں، مگر سڑک کنارے خوف زدہ کھڑا بزرگ شہری ہماری اجتماعی ناکامی کا عکس ہے۔وقت آ گیا ہے کہ ‘‘سگنل فری لاہور’’ کے ساتھ ساتھ ‘‘محفوظ پیدل لاہور’’ کو بھی عملی جامہ پہنایا جائے