وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں بائیکر لائن کا رنگ ایک لوکل کمپنی نے آزمائشی بنیادوں پر ایک سال کی گارنٹی کے ساتھ لگایا تھا، اور اب وہی کمپنی دوبارہ اس کا رنگ کرے گی، اس میں پنجاب حکومت کا کوئی مالی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی ادائیگی کی گئی۔
انہوں نے پشاور بی آر ٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے پانچ سال میں یہ بس سروس کم چلی ہے اور زیادہ تر حادثات اور آگ لگنے کے واقعات کا شکار رہی ہے۔ عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ پشاور میٹرو کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کو آج بھی 60 ارب روپے کی ادائیگی کرنی ہے اور اس کا کیس عالمی عدالت میں چل رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بیرسٹر سیف ہمیشہ پنجاب پر تنقید کر کے خبروں میں رہنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، جبکہ وہ اپنی حکومت کی کارکردگی بتانے سے قاصر ہیں۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام آج بھی ندی نالے بائیک پر عبور کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ پنجاب میں میٹرو بس اور اورنج لائن کے بعد ٹرام اور انڈر گراؤنڈ گرین لائن کے منصوبے بن رہے ہیں۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وہ لوگ جو اپنی حکومت کی کارکردگی دکھانے کے قابل نہیں ہیں، وہ دوسروں کے ترقیاتی منصوبوں پر اعتراضات کر رہے ہیں۔