تحریک انصاف کے اندرونی حلقوں میں خیبر پختونخوا اسمبلی سے عمران خان کی منظوری کے بغیر بجٹ کی منظوری پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
پارٹی عہدیداروں، بشمول بیرسٹر سلمان اکرم راجہ اور علیمہ خان، نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا، جس کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپنا مؤقف واضح کرنے کے لیے ویڈیو بیان جاری کر دیا۔وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا:"مخالفین سن لیں! جب تک ہم زندہ ہیں، کوئی عمران خان کو مائنس نہیں کر سکتا۔ عمران خان ہمارے لیڈر ہیں، اُن کا ہر فیصلہ ہمیں قبول ہے۔ وہ جب کہیں گے، میں حکومت چھوڑ دوں گا۔"
پی ٹی آئی کے اندر تنقید کی وجوہات
علی امین گنڈاپور نے پہلے اعلان کیا تھا کہ بجٹ عمران خان کی منظوری کے بغیر پیش نہیں ہوگا اور ملاقات نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی دھمکی دی تھی۔لیکن جب بجٹ کی منظوری کا وقت آیا تو انہوں نے عمران خان سے ملاقات کا انتظار کیے بغیر اسمبلی میں بجٹ منظور کروایا، جس پر پارٹی کے اندر سخت تنقید کی گئی۔عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ "عمران خان کو عملاً مائنس کر دیا گیا ہے"۔بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بجٹ کی منظوری میں جلد بازی کی ضرورت نہیں تھی، 30 جون تک کا وقت موجود تھا۔
موجودہ ملاقاتیں اور بیانات
آج عمران خان سے بیرسٹر سیف اور عمران خان کی بہنوں نے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد علی امین گنڈاپور کا ویڈیو بیان سامنے آیا۔ویڈیو بیان میں انہوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ وہ یا کوئی دوسرا عمران خان کو پیچھے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔انہوں نے کہا:"عمران خان کے دشمنوں کو پہچانیں، یہ لوگ آپ کی تحریک اور مقصد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔"
سیاسی تجزیہ
سیاسی مبصرین کے مطابق:علی امین گنڈاپور کا یہ بیان تنقید کا دباؤ کم کرنے اور پارٹی میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے کی کوشش ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر قیادت سے مشاورت کے بغیر فیصلوں پر اختلافات گہرے ہو رہے ہیں۔عمران خان کا کوئی تازہ بیان سامنے نہیں آیا، مگر پارٹی قیادت کی طرف سے اب ویڈیو بیانات اور وضاحتوں کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے۔