ایف پی سی سی آئی کی بجٹ 2025-26 کے لیے ٹیرف تجاویز وزارتِ تجارت کو ارسال

ایف پی سی سی آئی کی بجٹ 2025-26 کے لیے ٹیرف تجاویز وزارتِ تجارت کو ارسال

اسلام آباد: فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ کے لیے اپنی ٹیرف تجاویز وزارتِ تجارت کو ارسال کر دی ہیں، جن میں درآمدی ڈیوٹی میں کمی اور مقامی صنعت کی ترقی کے لیے متعدد سفارشات شامل ہیں۔

اہم ٹیرف تجاویز:
چائے کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی 11 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ چائے کی قیمتوں میں کمی ہو اور عوام کو ریلیف ملے۔میڈیکل ڈیوائسز اور ادویات سازی کے خام مال پر کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی سفارش کی گئی ہے تاکہ مقامی سطح پر ادویات کی پیداوار کو فروغ ملے۔موٹر سائیکل کے پرزہ جات پر کسٹم ڈیوٹی 35 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس سے اسپیئر پارٹس کی قیمتوں میں کمی اور حکومتی ریونیو میں اضافہ متوقع ہے۔کاغذ اور پیپر بورڈ پر کسٹم ڈیوٹی 10 فیصد برقرار رکھنے اور ریٹیل ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ مقامی صنعت کو فروغ ملے۔پرنٹڈ میٹریل کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی 3 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جس سے 4 ارب روپے کے پرنٹڈ مواد کی مقامی سطح پر پیداوار ممکن ہوسکے گی اور زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔پانچ سال پرانی تعمیراتی مشینری کی درآمد پر عائد پابندی ختم کرنے اور 10 سال پرانی مشینری کی درآمد کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ اور منصوبوں کی لاگت میں کمی ہو۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ کا مؤقف:
ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ کا کہنا ہے کہ کسٹم ڈیوٹی 20 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد اور 6 فیصد ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کو صفر کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ صنعتوں کو درپیش مالی بوجھ کم ہو اور مقامی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو۔انہوں نے مزید کہا کہ قومی ٹیرف پالیسی کے تحت اسپیئر پارٹس کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بھی موثر اقدامات کیے جائیں۔

ممکنہ اثرات:
ایف پی سی سی آئی کے مطابق ان تجاویز پر عمل درآمد سے:
✅ مقامی صنعتوں کو فروغ ملے گا۔
✅ تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔
✅ نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے۔
✅ اسمگلنگ کی روک تھام میں مدد ملے گی۔
✅ قیمتی زرمبادلہ کی بچت ممکن ہو سکے گی۔

یہ تجاویز آئندہ بجٹ میں حکومت کی پالیسی سازی پر گہرا اثر ڈال سکتی ہیں اور صنعتی و تجارتی ترقی کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔