اسلام آباد:حکومت آئندہ مالی سال 2025-26 کے وفاقی بجٹ میں بڑے پیمانے پر ٹیکس اصلاحات پر غور کر رہی ہے، جن میں گاڑیوں، پرزہ جات، اور صنعتی خام مال پر ٹیکسز میں نمایاں کمی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق، نیا بجٹ ٹیکس دہندگان کے لیے کچھ ریلیف اور برآمدات کے فروغ کی سمت اہم اقدامات لے کر آئے گا۔ذرائع کے مطابق، وفاقی بجٹ میں مجموعی ٹیکس ہدف 14 ہزار 305 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے قوانین کے نفاذ سے 600 ارب اور نئے اقدامات سے 400 ارب روپے کی وصولی کی توقع ہے۔ اس سلسلے میں حکومت اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ٹیکس تجاویز پر مشاورت جاری ہے۔
گاڑیوں اور پرزہ جات پر ٹیکس میں کمی:
ذرائع کے مطابق، نئے بجٹ میں گاڑیوں اور ان کے پرزہ جات پر ٹیکسز میں کمی کی تجاویز زیر غور ہیں، جن میں شامل ہیں:
پرزہ جات پر 2 فیصد ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کو ختم کرنے کی تجویز
4 سے 7 فیصد کسٹمز ڈیوٹی والے سلیب میں بتدریج کمی
گاڑیوں پر موجودہ 15 سے 90 فیصد ڈیوٹی میں 20 فیصد تک کمی کی تجویز
صنعتی خام مال پر ٹیکس میں نرمی:
برآمدات کو کم از کم 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے حکومت صنعتی خام مال پر ٹیکسز میں نرمی پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس ضمن میں جن شعبوں کو ٹیکس ریلیف دیا جائے گا، ان میں شامل ہیں:
ٹیکسٹائل
کیمیکلز
آٹو پارٹس
پلاسٹک
لوہا و اسٹیل انڈسٹری
ان اشیا پر ڈیوٹیز میں کمی کا پلان بھی زیر غور ہے تاکہ صنعتوں کو سستا خام مال فراہم ہو اور وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں مسابقت کے قابل بن سکیں۔
زرعی آمدن پر ٹیکس:
آئی ایم ایف کی سفارشات کی روشنی میں، معیشت کو دستاویزی بنانے اور ریونیو بڑھانے کے لیے حکومت نے زرعی آمدن پر بھی ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کا آغاز یکم جولائی 2025 سے متوقع ہے۔
نتیجہ:
حکومت کی یہ مجوزہ ٹیکس اصلاحات نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو متحرک کرنے میں معاون ثابت ہوں گی بلکہ بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کے ساتھ ساتھ مقامی صنعت کو بھی تقویت دیں گی۔وفاقی بجٹ کی حتمی منظوری سے قبل مزید مشاورت جاری ہے، اور ممکنہ طور پر آئندہ ہفتوں میں ان تجاویز پر مزید پیش رفت دیکھنے کو ملے گی۔