7 مارچ کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت

واشنگٹن (نیٹ نیوز) امریکی ریاست  جنوبی کیرولائنا کے ایک سزائے موت  کے  قیدی بریڈ سگمن نے اگلے ماہ فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت پانے کا انتخاب کیا ہے۔   امریکہ میں گزشتہ 15 سال میں پہلی بار اس طریقے کے استعمال کا موقع ہوگا۔  67 سالہ سگمن کو 7 مارچ کو سزائے موت  دی جائے گی۔ وہ جنوبی کیرولائنا کے پہلے قیدی بن گئے ہیں جنہوں نے ریاست کے نئے قانون کے تحت لیتھل انجیکشن (زہریلے انجیکشن) اور الیکٹرک چیئر کے بجائے فائرنگ سکواڈ کو چْنا ہے۔ 1976 کے بعد سے امریکہ میں صرف تین افراد کو فائرنگ سکواڈ کے ذریعے سزائے موت دی گئی، آخری بار یہ سزا 2010 میں دی گئی تھی۔سی این این کے مطابق بریڈ سگمن کو موت کے  چیمبر میں ایک کرسی سے باندھا جائے گا، ان کے سر پر ایک نقاب چڑھایا جائے گا، اور ان کے دل پر ایک ہدف (ٹارگٹ) لگایا جائے گا۔ تین نامعلوم رضاکار تقریباً 15 فٹ (4.6 میٹر) کی دوری سے ان پر فائر کریں گے۔ سگمن کے وکیل گیرالڈ "بو" کنگ نے ایک بیان میں کہا کہ ان کے مؤکل نے الیکٹرک چیئر کا انتخاب اس لیے نہیں کیا کیونکہ وہ اسے "زندہ جلا دینے" کے مترادف سمجھتے ہیں۔ اس کے علاوہ زہریلا انجیکشن بھی انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ستمبر کے بعد جن تین قیدیوں کو زہریلے انجیکشن کے ذریعے سزائے موت دی گئی انہیں مرنے میں 20 منٹ سے زیادہ کا وقت لگا۔سنہ 2001 میں سگمن نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ کے والدین کو بیس بال بیٹ کے ذریعے قتل کر دیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق وہ دونوں کو الگ الگ کمروں میں لے گئے اور انہیں بے رحمی سے مارا پیٹا۔ بعد میں انہوں نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ کو گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا لیکن وہ کار سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی۔ سگمن نے فرار ہوتے وقت اس پر گولی چلائی لیکن نشانہ خطا ہوگیا۔