وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے پاکستان کی عزت بڑھانے کیلئے تاریخی کام کیا نواز شریف
سیاسی میدان ہو یا دفاع کا معاملہ، ہم نے اپنا بھرپور کردارادا کیا‘آج دنیا بھر میں ایک بار پھر سبز پاسپورٹ کی عزت ہو رہی ہے‘پنجاب اور مرکز ترقی میں سب سے آگے ہیں، مجھے گلگت بلتستان اتنا ہی عزیز ہے جتنا پنجاب، سندھ اور بلوچستان ہے
گلگت بلتستان میں فنڈزکی کمی بیشی کو وزیراعظم دیکھیں گے، وزیراعظم سے پیسے لے کر گلگت بلتستان کو دوں گا، گلگت بلتستان میں ہونے والے ترقیاتی کام مقامی لوگوں کا حق ہے:نوازشریف کا گلگت بلتستان پارلیمانی بورڈ کے اجلاس سے خطاب
گلگت بلتستان‘اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ ن کے صدر و سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کی عزت بڑھانے کیلئے تاریخی کام کیا۔گلگت بلتستان پارلیمانی بورڈ کے اعلیٰ سطح اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے صدر نوازشریف کا کا کہنا تھا سیاسی میدان ہو یا دفاع کا معاملہ، ہم نے اپنا بھرپور کردارادا کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے انتھک محنت کی، آج دنیا بھر میں ایک بار پھر سبز پاسپورٹ کی عزت ہو رہی ہے۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے گلگت بلتستان میں عوام کی خدمت کی ہے، گلگت بلتستان میں 60 ارب کی لاگت سے سڑک بنائی، فاصلے کم ہوئے، وزیراعظم شہبازشریف گلگت بلتستان کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہونے والے ترقیاتی کام کوئی احسان نہیں، عوام کا حق ہے، ہم نے صرف باتیں نہیں کیں، عملی طور پر کام کر کے دکھائے ہیں، ہم سب نے مل کر ملک کو ترقی کی طرف لے جانا ہے۔صدر مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ پنجاب اور مرکز ترقی میں سب سے آگے ہیں، مجھے گلگت بلتستان اتنا ہی عزیز ہے جتنا پنجاب، سندھ اور بلوچستان ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے، مسلم لیگ (ن) نے ہر شعبے اور ہر محاذ پر اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔نوازشریف نے کہا کہ گلگت بلتستان میں فنڈزکی کمی بیشی کو وزیراعظم دیکھیں گے، وزیراعظم شہباز شریف سے پیسے لے کر گلگت بلتستان کو میں خود دوں گا، گلگت بلتستان میں ہونے والے ترقیاتی کام مقامی لوگوں کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے لوگوں نے کہا چھوٹے سے علاقے میں اربوں روپے کی سڑکیں بنا رہے ہیں، میں نے کہا سڑکیں بنانا کوئی احسان نہیں ہے، 24 گھنٹے کا سفر 10 گھنٹے کا ہوگیا، لواری ٹنل میں اربوں روپے خرچ ہوئے جو خرچ کرنا انتہائی ضروری تھا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد اور پنجاب میں بھرپور ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، دوسرے صوبوں کو بھی پنجاب کے منصوبوں کی تقلید کرنی چاہیے، مقامی حکومتیں وفاقی حکومت کے ساتھ ساتھ خود بھی اپنے فنڈز جنریٹ کریں۔نواز شریف نے کہا کہ آپ کا بجٹ صرف لوگوں کی جیب میں نہیں جانا چاہئے آن گراؤنڈ استعمال ہونا چاہئے، ہم نے کبھی نہیں کہا فلاں نے یہ کیا فلاں پارٹی نے وہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پندرہ سال سے خیبرپختونخوا میں ایک حکومت ہے، پندرہ سال سے وہاں کیا ہو رہا ہے، خیبرپختونخوا میں کہاں فری ادویات اور اچھی ٹرانسپورٹ مل رہی ہے؟ کیا کوئی وہاں سکھ کا سانس لے رہا ہے؟ جب یہ چیزیں نظرنہ آئیں توپھردل کرتا ہے وہاں ایسا کیوں نہیں ہو رہا؟۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی ترقیاتی منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے تیزی لانے کا حکم دے دیا۔ملک میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلی سطحکا اجلاس منعقد ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اتھارٹی (پی تھری اے )اور اس سے متعلقہ نظام کو مزید مربوط بنانے کی اصولی منظوری دی۔ علاوہ ازیں اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پی تھری اے کی کارکردگی کو جدید عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ترقیاتی منصوبوں میں تیزی لانے کے لیے یہ ادارہ نجکاری ڈویژن کے تحت کام کرے گا۔وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹرنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے حوالے سے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کی استعداد میں بہتری لائی جائے۔وزیرِ اعظم نے مزید ہدایت دی کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کو وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی جانچنے (KPIs) کا حصہ بنایا جائے۔ نہوں نے کہا کہ پی تھری اے کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نظام کو مزید شفاف اور تیز بنایا جا رہا ہے