انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس نے ایشیز سیریز میں شکست کے بعد کھلاڑیوں کے دفاع میں اپنی رائے پیش کی اور جذباتی انداز اختیار کیا۔
بین اسٹوکس نے کھلاڑیوں کی مینٹل ہیلتھ کو موجودہ صورتحال میں سب سے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا میں گردش کرنے والی رپورٹس اور تنقید کے باوجود ان کی سب سے بڑی فکر ٹیم کے کھلاڑی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایسے حالات میں کھلاڑیوں پر دباؤ بڑھتا ہے اور ان کے لیے ضروری ہے کہ انہیں ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جائے۔ اسٹوکس نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے کھلاڑیوں کا دفاع کریں گے، اور اس وقت یہی ان کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بڑی سیریز میں تین میچز ہار جانے کے بعد ہر بات اور ہر عمل کی سخت اسکروٹنی ہوتی ہے، اور یہ عمل کھلاڑیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب انگلینڈ ٹیم نوسا میں پارٹی کے بعد تنقید کی زد میں آئی تھی۔ ویڈیو میں کھلاڑی بین ڈکٹ کی شراب نوشی کی حالت دیکھی گئی تھی، جس کے بعد انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ECB) نے تحقیقات کا آغاز کیا۔ ٹیم ڈائریکٹر راب کی نے بھی اس واقعے کی تحقیقات کا وعدہ کیا ہے تاکہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے اور ٹیم کی شبیہ کو محفوظ رکھا جا سکے۔بین اسٹوکس کے بیان سے واضح ہوا کہ کپتان کے طور پر ان کی اولین ترجیح کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود اور ان کے ذہنی سکون کو برقرار رکھنا ہے، چاہے حالات میڈیا اور عوامی تنقید کے کتنا ہی دباؤ ڈالیں۔