پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سکھر میں آئی بی اے یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ملک میں ڈیجیٹل اسپیس کے خطرات، ماحولیاتی تبدیلیوں، اور ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں موٹر وے انفرااسٹرکچر کی بجائے براڈبینڈ انٹرنیٹ انفرااسٹرکچر کی ضرورت ہے، کیونکہ ٹیکنالوجی معاشی ترقی اور نوجوانوں کے لیے اہم ہے۔انہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں ہر 10 سال بعد ایسا سیلاب آتا ہے جو طوفان نوح کی یاد دلاتا ہے، اور پاکستان عالمی ماحولیاتی خطرات میں شامل ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کا آلودگی میں کوئی حصہ نہیں ہے اور ماضی میں مغرب نے سامراجیت کے ذریعے وسائل لوٹے اور صنعتی انقلاب کے نام پر ماحول کو نقصان پہنچایا۔پی پی پی چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم میں ماحول کو بنیادی انسانی حقوق میں شامل کیا گیا ہے۔
بلاول بھٹو نے تعلیم کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ تعلیم کے ذریعے ہی نوجوانوں نے طاقتور قوتوں کو شکست دی۔ انہوں نے سکھر جیل میں بینظیر بھٹو کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو اپنے حقوق کے لیے جدو جہد کرنی ہوگی۔آخر میں بلاول بھٹو نے ڈیجیٹل رائٹس بل کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ہر شہری کا حق ہے کہ وہ تیز رفتار انٹرنیٹ اور ڈیٹا پرائیویسی کا تحفظ حاصل کرے۔