کراچی کے علاقے ملیر قائد آباد کے نواحی گوٹھ میں پسند کی شادی کی خواہش ظاہر کرنے پر ایک نرس پر اہلِ خانہ نے تشدد کیا اور اس کے سر کے اگلے حصے کے بال مونڈ دیے۔
تفصیلات:
22 سالہ ناز فاطمہ، جو مقامی اسپتال میں نرس ہیں، نے قائد آباد تھانے میں اپنے والد، والدہ، دادی، چچا، اور ایک معذور پڑوسن کے خلاف مقدمہ درج کروایا۔
پولیس رپورٹ:
ایس ایچ او قائد آباد فراست حسین کے مطابق ناز فاطمہ اپنے عیسائی دوست سے شادی کرنا چاہتی تھیں، جس پر اہلِ خانہ نے انہیں منع کیا۔ لڑکی نے ناراض ہو کر اپنے دوست کے پاس شاہ فیصل کالونی میں رہنا شروع کیا لیکن دو ماہ بعد اہلِ خانہ اسے واپس گھر لے آئے اور شادی سے باز رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔اہلِ خانہ نے انکار پر غصے میں آ کر ناز فاطمہ پر تشدد کیا اور اس کے بال مونڈ دیے تاکہ وہ گھر سے باہر نہ نکل سکے۔ ناز فاطمہ نے اپنے وکیل کی مدد سے پولیس میں شکایت درج کرائی۔
گرفتاری اور رہائی:
پولیس نے لڑکی کے والد نیاز حسین، والدہ، دادی، چچا اور ایک معذور خاتون کو گرفتار کیا۔ تاہم، عدالت نے ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔یہ واقعہ ملک میں خواتین کے حقوق اور ان پر تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات کی ایک اور مثال ہے۔