نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان، لیاقت بلوچ، نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مدارس کی رجسٹریشن کے مسئلے کو فوری طور پر حل کرے اور ٹال مٹول کی پالیسی ترک کرے۔
انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے میں مزید تاخیر ملک کی تعلیمی اور دینی اداروں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی۔لیاقت بلوچ نے اپنے بیان میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ مقتدرہ کے "چھڑی اور گاجر" کے فارمولے نے نہ صرف سیاست بلکہ پارلیمنٹ کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ غیر جمہوری طریقہ کار پاکستان کی سیاسی و آئینی سالمیت کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ 1973 کے دستور کو ایک متفقہ دستاویز سمجھا جاتا ہے، لیکن اس میں جبری ترامیم نے اس کو متنازع بنا دیا ہے، جس سے آئین کی بنیادی حیثیت متاثر ہو رہی ہے۔
لیاقت بلوچ نے سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور ہوسِ اقتدار میں مبتلا سیاستدانوں کو جمہوریت دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ عوامی مفادات کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔واضح رہے کہ لیاقت بلوچ آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے علاقے دھیر کوٹ کا دورہ کرنے والے ہیں، جہاں وہ مقامی مسائل پر بھی گفتگو کریں گے اور جماعت اسلامی کی سیاسی حکمت عملی کو سامنے لائیں گے۔