نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ مسئلہ فلسطین پر حکومتِ پاکستان کا غلط قدم تنازعِ کشمیر کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
اپنے بیان میں انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے ٹرمپ امن منصوبہ تسلیم کر کے جنرل مشرف والی غلطی دہرائی ہے۔لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ فلسطین کے معاملے پر حکومت کا غلط مؤقف مستقبل میں ملکی خارجہ پالیسی پر گہرے اثرات ڈالے گا۔ ان کے مطابق امتِ مسلمہ کو اس موقع پر متحد ہو کر آواز بلند کرنی چاہیے تھی، مگر افسوس کہ موجودہ حکومت نے قومی مؤقف کو کمزور کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سینیٹر مشتاق احمد خان کی بخیریت واپسی پورے ملک کے لیے اطمینان کا لمحہ ہے اور ان کی استقامت ہر کارکن کے لیے مثال ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں کی نورا کشتی صرف دکھاوا ہے۔ ان کے مفادات ایک ہیں اور اقتدار چھوڑنا ان کے لیے ممکن نہیں کیونکہ وہ عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لیے سیاست کر رہی ہیں۔لیاقت بلوچ نے بتایا کہ ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام قومی فلسطین سیمینار 9 اکتوبر کو لاہور میں منعقد کیا جائے گا، جس میں مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنما شریک ہوں گے۔