پیپلزپارٹی کے رہنما راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کے لیے تحریری چارٹر آف ڈیمانڈ مانگا گیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات کسی غیر ملکی دباؤ یا عدالتی فیصلے کے مؤخر ہونے سے متعلق نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک داخلی عمل ہے تاکہ ملک میں موجود سیاسی بحران کو حل کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی اس وقت صرف پاکستان کے مفاد میں بات چیت کر رہی ہے۔ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی ضرورت ہے اور ان کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ نہ تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فون آیا ہے، نہ ہی کسی دوسرے ذرائع سے انہیں مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر بات چیت کرنی چاہیے تاکہ مسائل کا حل نکالا جا سکے۔صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ان کا مطالبہ ریلیف کا نہیں بلکہ فیکٹ اینڈ فائنڈنگ کا ہے، یعنی وہ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ملک میں موجود مسائل کے بارے میں حقائق جاننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کوئی بھی مطالبہ ماورائے آئین نہیں ہے۔
سینیٹر عرفان صدیقی نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی سے کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن اس بات پر زور دیا کہ تمام معاملات کو ایک مخصوص دائرہ کار میں طے کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کے کیس کا ان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ مذاکرات کسی تلوار کی دھار پر نہیں کیے جا سکتے۔یہ تمام بیانات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان میں سیاسی مسائل کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی ضرورت ہے، لیکن اس عمل کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے آگے بڑھانا ضروری ہے۔