خیبرپختونخوا کابینہ کرم میں راستے کی بحالی کیلئے خصوصی پولیس فورس قائم کرنیکا فیصلہ

 ضلع کرم میں ایمرجنسی نافذ‘ مسئلہ دہشتگردی نہیں باہمی تنازع ہے،  اہل علاقہ امن چاہتے ہیں‘ کچھ عناصر فرقہ وارانہ منافرت کے ذریعے حالات خراب کرنا چاہتے ہیں:وزیراعلی
 صوبائی حکومت مذاکرات اور جرگوں کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل نکالنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے‘لوگوں کی حفاظت یقینی بنائیں گے: علی امین گنڈا پور کا  اجلاس سے خطاب
پشاور(آئی این پی)وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کرم میں غیر قانونی ہتھیاروں کی بھرمار ہے، مسئلہ دہشتگردی نہیں باہمی تنازع ہے۔کے پی کے کابینہ کا اجلاس وزیراعلی علی امین گنڈاپور  کی زیرصدارت ہوا، جس میں  کابینہ کے اراکین، چیف سیکرٹری،  ایڈیشنل چیف سیکرٹریز اور انتظامی سیکرٹریز شریک  ہوئے۔اجلاس کو ضلع کرم کی صورتحال اور اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ کرم کے مسئلے کے پائیدار حل کے لیے مختلف سطح پر متعدد جرگے منعقد کیے گئے ہیں۔ علاقے میں ادویات کی کمی دور کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اب تک تقریبا 10 ٹن ادویات پہنچائی گئی ہیں۔ یہ ادویات کرم کے تمام علاقوں کو فراہم کی گئیں۔کرم تک زمینی رابطے کی بحالی کے سلسلے میں پارہ چنار روڈ کو محفوظ بنانے کے لیے اسپیشل پولیس فورس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مجموعی طور پر 399 اہلکار بھرتی کیے جائیں گے جب کہ سڑک کو محفوظ بنانے کے لیے ابتدائی طور پر عارضی پوسٹیں اور مستقبل میں مستقل پوسٹیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ کرم کا مسئلہ دہشتگردی کا نہیں بلکہ دو گروپوں کے درمیان تنازع ہے۔ علاقے کے لوگ امن چاہتے ہیں لیکن کچھ عناصر فرقہ وارانہ منافرت کے ذریعے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہ عناصر مسئلے کو دوسرا رنگ دینے کے لیے غلط بیانیہ بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ علاقے میں غیر قانونی بھاری ہتھیاروں کی بھر مار ہے۔ اتنے بھاری ہتھیار رکھنے اور مورچے بنانے کا کوئی جواز نہیں۔ حکومت کی کوئی ایسی پالیسی نہیں کہ کسی بھی مسلح گروپ کو غیر قانونی بھاری ہتھیار رکھنے کی اجازت دے۔علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت مذاکرات اور جرگوں کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ علاقے کے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت اپنی عملداری پر سمجھوتا نہیں کرے گی۔