کرم میں بدستور داخلی و خارجی راستے بند، سڑکیں کھولنے کیلئے احتجاجی دھرنا جاری

اپر کرم کی چار لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی علاقے میں محصور ہوکررہ گئی، اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور فراہمی معطل ہے
شدید سردی کے باوجود پشاورپریس کلب کے سامنے دھرنے میں کثیر افراد شریک،بگن میں بھی احتجاجی دھرنا جاری
پشاور(آئی این پی)کرم میں ہوئے امن معاہدے کو دو دن گزرنے کے باوجود پاراچنار ٹل مین شاہراہ اتوار کو بھی ہر قسم آمد و رفت کیلئے بند رہی ، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اپر کرم کی چار لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی علاقے میں محصور اور اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور فراہمی معطل ہے۔راستوں کی بندش، بدامنی اور دہشتگردی کے خلاف کرم پریس کلب کے سامنے احتجاجی دھرنا بھی جاری ہے، شدید سردی کے باوجود دھرنے میں کثیر افراد شریک ہیں۔ دھرنے کے شرکا کا کہنا ہے کہ جب تک روڈ نہیں کھل جاتا، روڈ کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاتا تب تک دھرنا جاری رہے گا، راستوں کو محفوظ بنانے کیلئے دھرنا جاری رہے گا۔کرم کے علاقے بگن میں بھی احتجاجی دھرنا جاری ہے، شرکا کا کہنا ہے کہ جب تک ریلیف پیکج نہیں ملتا دھرنا جاری رہے گا۔ دریں اثناء ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 80 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کو روک دیا گیا ہے،روڈ کلیئر ہوتے ہی قافلہ روانہ کیا جائے گا۔