تخیل سے حقیقت تک: پاکستان کا خاموش سفر

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
جدیدجنگ کاافق اب توپ وتفنگ کے دھویں سے نہیں،بلکہ نادیدہ لہروں،خاموش پروازوں،اورمصنوعی ذہانت کی خلوتوں سے روشن ہوچکاہے۔جب اقوامِ عالم زمینی حدودکے جھگڑوں سے ماوراہوکرافلاک کی وسعتوں میں برتری کیلئے صف آرا ہوں،تویہ نہ صرف عسکری ترجیحات کااشاریہ ہوتاہے بلکہ تہذیبی،فکری اورسیاسی خودشعوری کااعلان بھی۔ ایک دورتھاجب جنگ کافیصلہ فوج کی تعدادپرہوتاتھا،پھرزمانہ آیاکہ ہتھیاروں کی نوعیت نے بازی پلٹی۔آج ہم اس عہدمیں داخل ہوچکے ہیں جہاں’’نظرنہ آنے والی قوت‘‘ہی سب کچھ ہے۔یہی فلسفہ ہے’’ففتھ جنریشن سٹیلتھ فائٹرجیٹس‘‘کاوہ طیارے جوخودکوچھپاتے ہیں مگردشمن کوڈھونڈلیتے ہیں۔
آج پاکستان اورہندوستان کے مابین جوکچھ ہورہاہے،وہ تلواروں کی جھنجناہٹ نہیں بلکہ چپ چاپ موت بانٹنے والے خاموش قاتلوں کی دنیاہے ۔سٹیلتھ ٹیکنالوجی سے مزین ففتھ جنریشن طیاروں کی دوڑ،جونہ صرف ریڈارکی آنکھ کوچکمہ دیتے ہیں بلکہ دشمن کی نیندیں بھی چرالیتے ہیں۔جے-35طیارے فقط ہتھیارنہیں،بلکہ جدید جنگی فلسفے کے عکاس ہیں،جو دشمن کودکھائی دیے بغیرمارگرانے کی قدرت رکھتے ہیں۔یہ ایک ایسی قوت ہے جوخاموشی سے اپناکام کرتی ہے،گویاسناٹا ہی اس کی آوازہے۔چین کی پاکستان کوجے35 طیاروں کی پیشکش بظاہرایک فوجی سودہ سہی مگردراصل اس میں چھپی ہے ایک بین الاقوامی دوستی کی گونج ’’کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں،نہ صرف زمینی محاذپربلکہ فلک پربھی تمہارے آزمودہ ساتھیوں کی طرح محوِپروازرہیں گے‘‘ اوریہ ہے ہمسایہ چین دوست کی پیشکش جوہمالیہ کی چوٹیوں پرسنائی دے رہی ہے۔
پاکستان اوربھارت کے درمیان چارروزہ گولہ باری فقط بارودکادھواں نہیں تھی،بلکہ اس میں ایک غیرعلانیہ پیغام پنہاں تھاہم تیار ہیں،لیکن تم بھی محتاط رہو۔اب بات چوکوں اور مورچوں سے نکل کردفترِخارجہ کی میزپرآچکی ہے،جہاں فائلیں ہی فصیلیں ہیں اور بیانات،میزائلوں کے متبادل۔جنگی تبادلوں کے بعددفاعی اپ گریڈکی سفارتی بازگشت تیزی کے ساتھ اپنی منزل کی جانب بڑھ رہی ہے۔ چین کی پاکستان کوجے35سٹیلتھ طیاروں کی پیشکش نہ صرف ایک دفاعی معاہدہ ہے بلکہ ایک سیاسی بیانیہ بھی۔چین کایہ پیغام صاف ہے:’’ہم تمہارے دفاعی شراکت دارہیں‘‘۔جے-35وہ پرندہ ہے جودشمن کی نظرسے اوجھل رہتاہے،مگراس کے قلب پرکاری وارکرتا ہے ۔ پاکستان کیلئے یہ پیشکش مستقبل کی فضائی حکمت عملی کی نویدہے۔
یہ حقیقت اب آشکارہوچکی ہے کہ چین نے پاکستان کوجے35ففتھ جنریشن سٹیلتھ جہاز کی پیشکش کی ہے لیکن اسے صرف عسکری سودے بازی سمجھنا،سیاسی سادہ لوحی کے سواکچھ نہیں۔چین کی بروقت اوراہم پیشکش،محض سوداگری نہیں، بلکہ ایک تہذیبی اشارہ ہے۔یہ درحقیقت اس دوستی کاعملی استعارہ ہے جسے وقت کی آزمائشوں نے’’آہنی بھائی چارہ ‘‘ بنا دیا۔یہ طیارے نہ صرف جدیدتکنیکی کمالات کامظہرہیں بلکہ پاکستان کے دفاعی نظریے میں ایک خاموش مگرگہری تبدیلی کااشارہ بھی دیتے ہیں۔
چارروزہ جھڑپیں دراصل خاموش سفارتی چیخیں تھیں،جوبندوق کی نالی سے نکل کراقوام عالم اوراقوام متحدہ کے بہرے کانوں میں گونجیں۔اب دونوں ممالک جان چکے ہیں کہ جنگ جیتنے کیلئے صرف فوج نہیں،ٹیکنالوجی بھی درکارہے۔یہی وجہ ہے کہ اب پاک وہند کے درمیان سفارتی تناؤکے ساتھ عسکری اپ گریڈکے معاملات کوہرچیزپرفوقیت حاصل ہو گئی ہے۔بالخصوص انڈین چیف آف ڈیفنس کا ایک غیرملکی میڈیاکے سامنے رافیل اور دیگر جہازوں کی تباہی کے جواب میں’’نمبراہم نہیں،وجوہات اہم ہیں‘‘ایک ایساکھلا اعتراف ہے جودراصل شکست کے اعتراف سے کہیں بڑھ کرہے۔
یہ بیان دراصل ایک عسکری فلسفے کی تبدیلی ہے۔یہ کہناکہ کیاغلطیاں ہوئیں،ایک ایسی سیاسی تکبرکی شکست فاش ہے جوپاکستان کوایک کمزورریاست سمجھتے ہوئے ہروقت آنکھیں دکھاتارہتاتھااوراب،جب انڈین چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان نے پہلی بار طیارے گرائے جانے پرلب کشائی کی،تویہ محض اعتراف نہیں،بلکہ اپنے عسکری تجزیے کاایک خوداحتسابی پہلوتھا۔اہم سوال یہ ہے کہ’’وہ کیوں گرائے گئے؟‘‘اوریہ سوال عددی کامیابی سے زیادہ فکری گہرائی کاطالب ہے۔یہاں اس بات کاتذکرہ بھی کرناضروری ہے کہ اس جنگ سے قبل خودبھارتی اخبار’’ہندو‘‘میں شائع ہونے والاایک حاضرسروس بھارتی جنرل کامؤقف اب بھی ایک مضبوط فکری اوراخلاقی معیارکے طورپریادرکھا جارہاہے کہ جنگ کے مستنداثرات،سفارتی حکمت،اورذمہ دارانہ سوچ کاایک زندہ ثبوت ہے جس میں جنرل منوج مکندناروانے نے جنگ کے تباہ کن اثرات پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاتھا : جنگ کوئی رومانوی تصورنہیں،نہ ہی یہ کسی بالی ووڈ فلم کی طرح ہوتی ہے۔یہ تباہی،اذیت،اوربے گناہ جانوں کانقصان لاتی ہے۔اسے ہمیشہ صرف آخری حل کے طورپر سوچاجانا چاہیے،جب تمام سفارتی وپرامن راستے ناکام ہوچکے ہوں لیکن وائے افسوس کہ متکبرمودی طے کرچکاتھا کہ وہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کوکیش کرواکے صوبہ بہارمیں انتخاب جیت جائے گالیکن پاکستانی شاہینوں اورزمینی مجاہدوں کے ایک ہی جھٹکے نے مودی گجراتی قصاب کوساری دنیاکے سامنے ننگاکرکے اسے زمینی حقائق کی خاک چاٹنے پرمجبورکرتے ہوئے عملی دنیاکی طرف لوٹنے پرمجبورکردیا۔
مئی کے مہینے میں جب چاردن تک پاکستان اوربھارت ایک دوسرے کے خلاف گرجتے برستے رہے،تب ہوامیں فقط بارودکی بونہیں، بلکہ تاریخ کے نوحے بھی بلندہوئے۔ایسے میں اگرکسی نے کان دھرا،تووہ سفارتی محاذپرگونجتی وہ گفتگوتھی جس میں محض الزامات نہیں،بلکہ اگلے معرکوں کی تیاری کاعندیہ بھی چھپاتھا۔ اب توپ کارخ،دشمن کی چال پرنہیں،اپنی فضائی قوت کی بساط پرمرکوزہے۔ہرملک چاہتاہے کہ اس کے فضائی دستے نہ صرف محفوظ ہوں،بلکہ چوتھی نسل سے پانچویں نسل کی چھلانگ ماریںایسی چھلانگ جودشمن کوپیچھے چھوڑ دے،اورحلیفوں کومتاثر کرے۔اب اقوام عالم میں گفتگوکانیامحورفضائی صلاحیتوں کی طرف مرکوزہوگیاہے۔عسکری دوڑمیں تہذیبی فہم کابھی چرچاجاری ہے۔
یہ وقت ہے جب فضاؤں کی جنگ،زمین پرقوموں کے مزاج اورفکرکی جھلک دکھارہی ہے۔بھارت جہاں اپنی دفاعی صلاحیتوں کوخود انحصاری کی راہ پرڈالنے کیلئے مقامی سطح پرففتھ جنریشن طیارے تیارکرنے کاعندیہ دے چکاہے،وہیں امریکایاروسی ٹیکنالوجی کی خریداری پربھی غورجاری ہے۔اس کے مقابلے میں پاکستان نے چین کی پیشکش کوقبول کرنے کے آثارظاہرکیے ہیںیہ فقط عسکری سودانہیں،بلکہ نئی عالمی صف بندیوں کااعلان ہے۔یہ وہ لمحہ ہے جب تہذیبوں کی سمت کاتعین ہوتاہے ،بھارت اگرروس کی جانب جھکتاہے تووہ مشرقی اتحادیوں کی صف میں شامل ہوتاہے،اوراگرامریکاکارخ کرتاہے،تومغربی بلاک کی چھتری تلے آجاتاہے۔طیاروں کی خریداری فقط تکنیکی فیصلہ نہیں،بلکہ تہذیبی وابستگی کی علامت بھی ہے۔
خاموش قاتل،ففتھ جنریشن سٹیلتھ طیاروں کی حقیقت آخرہے کیاکہ پاک وہندہی نہیں بلکہ دنیابھرمیں اس طیاروں میں دلچسپی بڑھتی جا رہی ہے۔دراصل یہ طیارے’’خاموش قاتل‘‘کہلاتے ہیں،نہ دکھائی دیتے ہیں،نہ آسانی سے روکے جاسکتے ہیں،اورنہ ہی ان کی نقل و حرکت کوآسانی سے سمجھاجاسکتاہے۔جدیدترین خوبیوں نے اس طیارے کو پانچویں نسل کی فضائی بالادستی کانشان بنادیاہے۔یادرہے کہ ففتھ جنریشن اورسٹیلتھ طیارہ اس وقت’’ففتھ جنریشن‘‘کہلاتاہے جب وہ سٹیلتھ ہو،سپرکروزکرے،نیٹ ورکڈ ہو،ملٹی رول ہو اورایویانکس میں ہم آہنگی ہواورسب سے بڑی خوبی  یہ ہے کہ سٹیلتھ اس وقت معتبرہے جب دشمن کوطیارہ دیکھنے سے پہلے مارکھا جائے۔
اس کی پہلی خوبی اس کی سٹیلتھ صلاحیت ہے جواسے ریڈارسے اوجھل اوردشمن کے ہرقسم کے نظاموں سے چھپادیتی ہے۔دوسری اہم خوبی یہ ہے کہ  اس کی سپرکروزپروازہے یعنی آوازکی رفتارسے بھی کہیں زیادہ تیز،کم ایندھن کے ساتھ طویل فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت موجودہے۔تیسری خوبی ایویانکس اورسینسرفیوژن کی ہے،تمام سسٹمزکاہم آہنگ ہونا یعنی جیسے انسان کی پانچوں حواس ایک مرکب شعورمیں ڈھل جائیں،ویسے ہی یہ طیارے اپنے تمام نظاموں کوہم آہنگ کرکے دشمن پرکاری ضرب لگاتے ہیں۔چوتھی خوبی اس کی سپر کروزیعنی بغیرایندھن کے ضیاع کے تیزرفتاری سے ہدف کوتباہ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اورپانچویں خوبی نیٹ ورکڈوارفئیرکی ہے تمام فضائی وزمینی نظام سے ربط باقی رہتا ہے جیسے ہرمشین،ہرڈرون،ہرریڈارکے ساتھ جڑے،گویافضامیں ایک جال بچھادیاہو۔(جاری ہے)