ذہنی معذور لڑکی سے مبینہ زیادتی کے حساس مقدمے میں مؤثر پراسیکیوشن کی عدم موجودگی کے باعث اہم سوالات جنم لے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، نئے پراسیکیوٹر جنرل نے عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد اس مقدمے کو ہائی پروفائل قرار دیا تھا، مگر عملی اقدامات محدود رہ گئے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ، تفتیشی افسر کو مکمل تفتیشی ریکارڈ سمیت طلب کیا گیا تھا، مگر وہ پیش نہیں ہوا۔ اس کے باوجود، پراسیکیوشن کی جانب سے کوئی مؤثر کارروائی نہ ہو سکی، جس سے کیس کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔مزید برآں، حساس مقدمے کا مکمل تفتیشی ریکارڈ بھی عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، اور ہائی پروفائل قرار دیے جانے کے باوجود، کیس کی پیروی اور نگرانی محدود رہیں۔یہ صورتحال قانونی حلقوں میں تشویش کا سبب بن گئی ہے، اور مبینہ طور پر مؤثر پراسیکیوشن کی کمی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس سے کیس کی حساسیت اور اہمیت کے پیش نظر انصاف کے تقاضوں پر بھی سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔