چاغی میں تانبے اور سونے کی کانوں پر حملہ، 10 افراد جاںبحق‘متعدد اغواء

موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں میں سوار40سے زائد مسلح افراد نے سائٹ پر مختلف اطراف سے حملہ کیا، چھوٹے ہتھیاروں کا استعمال ‘ راکٹ بھی داغے گئے
فائرنگ کے تبادلے میں تین سکیورٹی گارڈ  جاں بحق ہوگئے‘ مسلح افراد نے  ڈرلنگ مشنری، جنریٹر اور دیگر آلات کو آگ لگادی:فرانسیسی خبر رساں ادارہ
کوئٹہ(آئی این پی ) صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی  میں نامعلوم  مسلح افراد نے تانبے اور سونے کے ایک مائننگ منصوبے پر حملہ کیا   جس میں نجی کمپنی کے  ملازمین سمیت دس افراد جاںبحق ہوگئے۔ میڈیارپورٹ کے مطابق  مقامی حکام  نے بتایا ہے کہ یہ حملہ گزشتہ  شام کو ضلع چاغی کے ضلعی ہیڈکوارٹر دالبندین سے تقریبا 120 کلومیٹر دور علاقے دریگون میں واقع نیشنل ریسورسز لمیٹڈ (این آر ایل) کی مائننگ سائٹ پر کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں میں سوار چالیس سے زائد مسلح افراد نے سائٹ پر مختلف اطراف سے حملہ کیا۔ چھوٹے ہتھیاروں کے استعمال کے علاوہ راکٹ کے گولے بھی داغے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے  کے مطابق ایک مقامی انتظامی افسر نے تصدیق کی  حملے میں دس افرا د مارے گئے   جن میں سات مزدور اور تین سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔انتظامی افسر کے مطابق غیر مصدقہ اطلاعات ہیں کہ مسلح افراد کچھ ملازمین کو بھی یرغمال بناکر لے گئے ہیں۔چاغی کے ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر   بتایا کہ مائننگ منصوبے کی سکیورٹی پر تعینات نجی سکیورٹی کمپنی کے مقامی ملازمین نے مزاحمت کی جس پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا تاہم مقابلے میں تین سکیورٹی گارڈ مارے گئے۔انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد ڈرلنگ مشنری، جنریٹر اور دیگر آلات کو آگ لگادی۔ اس دوران فائرنگ اور راکٹ گولے لگنے سے ایک فیول ٹینک پھٹ گیا جس کی زد میں آکر کئی ملازمین جھلس گئے اور ان کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد جاتے ہوئے کئی گاڑیاں بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ پولیس افسر کے مطابق کچھ ملازمین نے بھاگ کر قریبی گاں میں پناہ لی۔لاشوں اور زخمیوں کو دالبندین کے پرنس فہد ہسپتال لایا گیا جہاں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر لونگ خان نے  تصدیق کی کہ ہسپتال میں دس افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں جن میں سے سات جھلسنے سے ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تین کو گولیاں لگی تھیں