اسرائیل نے گزشتہ برس ایران کے جوہری تنصیبات کے دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے میں کامیابی حاصل کی۔
اسرائیلی اخبار "یروشلم پوسٹ" کے مطابق، یہ نادر موقع اُس وقت آیا جب ایران نے اپریل 2024 میں اسرائیل پر سیکڑوں میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ان حملوں کا مقصد اسرائیل کے دفاعی نظام کو نشانہ بنانا تھا، تاہم اسرائیل نے ایران کے جوہری تنصیبات پر فوری طور پر حملہ کرنے کی بجائے اپنے دفاعی اقدامات پر توجہ مرکوز کی۔ایران کے اس حملے کے جواب میں اسرائیل نے اصفہان میں واقع ایران کے S-300 طرز کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کے بعد ایرانی جوہری تنصیبات پر بھی حملہ کر کے انہیں تباہ کر دیتا۔ تاہم اسرائیل نے اس وقت اپنے حملے کو صرف دفاعی نظام تک محدود رکھا اور جوہری تنصیبات کو ترک کر دیا۔اس دوران اسرائیلی قیادت نے اپنے سیاسی و عسکری اجلاس منعقد کیے اور اس بات پر غور کیا کہ اب اسرائیل کے پاس ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ان اجلاسوں میں اس نادر موقع پر ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے پر بحث کی گئی۔
تاہم، امریکی حکومت نے اسرائیلی قیادت کے اس اقدام کو روکتے ہوئے کہا کہ اگر اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تو اس سے پورے خطے میں ایک خطرناک جنگ چھڑ سکتی ہے، جس کا نتیجہ عالمی سطح پر انتہائی سنگین ہو سکتا تھا۔امریکہ نے اسرائیل کو یہ مشورہ دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے خلاف اقدامات کے لیے وہ فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی طریقے اختیار کرے۔ اس وقت کی امریکی قیادت نے اسرائیل کے حملے کو روکا اور ایرانی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی اجازت نہ دی۔اس سے پہلے، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل نے ایران کی جوہری صلاحیت کو ایک سال پیچھے دھکیلنے کے لیے مئی 2024 میں حملے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم امریکی صدر ٹرمپ نے فوجی کارروائی کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنے کو ترجیح دی، تاکہ خطے میں جنگ سے بچا جا سکے۔