بھارتی معروف موسیقار اے آر رحمٰن نے سائرہ بانو سے طلاق کے بعد پہلی بار اس نجی فیصلے پر لب کشائی کرتے ہوئے سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
ایک حالیہ یوٹیوب انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے اے آر رحمٰن نے کہا کہ "ہم نے خود اپنی زندگی کو عوامی بنایا، اور جب زندگی عوامی ہو تو لوگ بات ضرور کرتے ہیں۔ دنیا کے امیر ترین شخص یا کسی روحانی شخصیت کے بارے میں بھی بات ہوتی ہے، تو میں کون ہوتا ہوں کہ لوگ میرے بارے میں کچھ نہ کہیں؟"انہوں نے مزید کہا کہ "ہم پر تنقید کرنے والے بھی ہمارے اپنے ہی لوگ ہیں۔ سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سامنا سب کو کرنا پڑتا ہے۔ اگر میں کسی کے بارے میں کچھ کہوں گا تو کوئی میرے بارے میں بھی کچھ نہ کچھ ضرور کہے گا۔"اے آر رحمٰن نے اخلاقی اقدار پر زور دیتے ہوئے کہا، "ہم بھارتی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ کسی کی ماں، بہن، بیوی یا بیٹی کے بارے میں نازیبا بات نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ہر انسان کے ساتھ جڑی خواتین قابلِ احترام ہوتی ہیں۔"
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی ان کے بارے میں تکلیف دہ بات کرے تو وہ اس کے لیے دعا کرتے ہیں کہ "خدا اس شخص کو معاف کرے اور اسے سیدھی راہ دکھائے۔"واضح رہے کہ نومبر 2024 میں اے آر رحمٰن اور سائرہ بانو نے تقریباً 30 سالہ ازدواجی رفاقت کے بعد علیحدگی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد دونوں کی ذاتی زندگی میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔