اسلام آباد/نئی دہلی: بھارت اور پاکستان کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اس وقت مزید شدت آ گئی جب بھارتی حکام نے حکومتِ پاکستان کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) ہینڈل کو بھارت میں بلاک کر دیا۔
ذرائع کے مطابق بھارتی حکومت نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب حالیہ دنوں مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی مقام پہلگام میں ہونے والے واقعے میں 28 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان پر الزامات عائد کیے گئے۔ واقعے کے بعد بھارت نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں واہگہ-اٹاری سرحد کی بندش بھی شامل ہے۔بھارت نے اس کے علاوہ سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ طور پر معطل کر دیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق امور طے پاتے تھے۔ مزید برآں، بھارت نے پاکستانی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں اور ہندوستان میں مقیم پاکستانیوں کو 48 گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم بھی دے دیا ہے۔
بھارتی اقدام پر تاحال پاکستانی دفترِ خارجہ کا باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان فیصلوں سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔واضح رہے کہ بھارت میں پاکستانی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش کا یہ پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی کئی مرتبہ پاکستانی میڈیا اداروں اور صحافیوں کے اکاؤنٹس بھارت میں بند کیے جا چکے ہیں۔ تاہم، کسی ریاستی ادارے کے باضابطہ اکاؤنٹ کو بلاک کیا جانا ایک غیر معمولی اور سنگین پیشرفت تصور کی جا رہی ہے۔بین الاقوامی حلقے اس صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور ماہرین سفارتکاری میں کمی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات پر زور دے رہے ہیں۔
4o