میکرون کا ایران کے ساتھ سفارتی رابطے اور مذاکرات جاری رکھنے پر زور

میکرون کا ایران کے ساتھ سفارتی رابطے اور مذاکرات جاری رکھنے پر زور

پیرس: فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایران کے ساتھ سفارتی رابطے اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی راستہ تلاش کرنا ضروری ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق میکرون نے خطے کی موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فوجی کشیدگی کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق علاقائی کشیدگی کم کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنا اہم ہے۔فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ فرانس ایران اور دیگر متعلقہ فریقوں کے درمیان سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ضروری ہے۔دوسری جانب ایران نے بھی امریکا کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے اپنی شرائط ثالثوں کے ذریعے پہنچا دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی شرائط میں جنگ کا خاتمہ، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایرانی اثاثوں کی بحالی شامل ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست رابطوں کے بجائے ثالثوں کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔میکرون کے بیان کے مطابق فرانس موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی راستے کی حمایت کرتا ہے اور ایران سمیت دیگر فریقوں کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کسی قابلِ عمل حل تک پہنچنے کی کوششوں کو جاری رکھے گا۔فرانسیسی صدر کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے خاتمے، ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مختلف سفارتی کوششیں جاری ہیں۔