دوحا: امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی سفارتی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔
قطر کا کہنا ہے کہ گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے مختلف تجاویز اور خیالات پر تبادلہ خیال جاری ہے، جبکہ پاکستان بھی ثالثی کی کوششوں میں قطر کے ساتھ شامل ہے۔قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری کے مطابق قطر کی ثالثی ٹیم ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات دوبارہ کس طرح شروع کیے جاسکتے ہیں۔ماجد الانصاری نے بتایا کہ ثالثی ٹیم کے ارکان مختلف دارالحکومتوں کے درمیان سفر کررہے ہیں تاکہ دونوں فریقوں کے درمیان موجود اختلافات کو کم کیا جاسکے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے قابلِ عمل راستہ تلاش کیا جا سکے۔ ان کے مطابق قطر اور پاکستان اس سفارتی عمل میں شامل ہیں۔قطری ترجمان کا کہنا تھا کہ دوحا کو امریکی انتظامیہ کے مختلف حکام کی جانب سے یہ یقین دہانیاں بھی ملی ہیں کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے اور جنگ کے حل کی خواہش رکھتا ہے۔ تاہم مذاکرات کی بحالی کے لیے فریقین کے درمیان متعدد معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ابھی باقی ہے۔
ماجد الانصاری کے مطابق خطے میں دیرپا استحکام کے لیے صرف دو طرفہ مذاکرات کافی نہیں بلکہ ایک علاقائی حل اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے بھی ضروری ہے۔ انہوں نے بالخصوص آبنائے ہرمز سمیت اہم آبی گزرگاہوں میں آزادانہ اور محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے پر زور دیا۔قطری ترجمان نے خبردار کیا کہ کسی ایک ریاست کی جانب سے اہم آبی گزرگاہ پر بالادستی قائم کرکے اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی سطح پر خطرناک مثال قائم کرسکتا ہے۔ قطر کی جانب سے اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز میں آزادانہ آمدورفت کی بحالی اور سفارتی حل کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا ہے۔آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی توانائی منڈی کے لیے بھی اہم ہے۔ رائٹرز کے مطابق حالیہ دنوں میں اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد معمول کے مقابلے میں نمایاں کم ہوئی ہے، جس سے عالمی تیل کی ترسیل اور شپنگ کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔
قطر کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کی تازہ کوششیں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے اور خطے میں کشیدگی کے باعث سفارتی حل اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی عالمی سطح پر اہم سفارتی ترجیحات بن چکی ہیں۔