جنت مرزا کی جعلی اے آئی ویڈیو پر شدید ناراضی، خواتین کی تصاویر کے غلط استعمال پر تشویش

جنت مرزا کی جعلی اے آئی ویڈیو پر شدید ناراضی، خواتین کی تصاویر کے غلط استعمال پر تشویش

 پاکستان کی معروف ٹک ٹاکر اور سوشل میڈیا شخصیت جنت مرزا نے اپنی ایک جعلی اے آئی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے بغیر اجازت کسی کے چہرے کو استعمال کرکے ویڈیوز تیار کرنے کے عمل کو خواتین کی عزت اور پرائیویسی کے لیے تشویشناک قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر زیرِ گردش مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیو میں جنت مرزا کو ایک نامعلوم شخص کے ساتھ دکھایا گیا ہے، جبکہ ویڈیو کے پس منظر میں معروف گانا ’’اچھی لگتی ہو‘‘ چل رہا ہے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد اسے سوشل میڈیا پر مختلف صارفین کی جانب سے شیئر کیا گیا۔جنت مرزا نے مذکورہ ویڈیو اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی ویڈیوز کو محض تفریح یا مذاق قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ کسی شخص کے چہرے کو اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے منظر یا ویڈیو میں شامل کرنا سنگین مسئلہ ہے۔جنت مرزا نے اپنی اسٹوری میں لکھا، ’’یہ ویڈیو بالکل بھی مذاق نہیں ہے۔ کسی کا چہرہ استعمال کر کے اس طرح کی ویڈیوز بنانا انتہائی تشویشناک ہے۔ آج میرا چہرہ استعمال ہوا ہے لیکن کل کسی اور لڑکی کی تصاویر کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔‘‘ٹک ٹاکر کا کہنا تھا کہ وہ خود سوشل میڈیا پر مسلسل متحرک رہتی ہیں، اس کے باوجود ایسی ویڈیو دیکھ کر انہیں شدید پریشانی ہوئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان خواتین اور لڑکیوں کے لیے یہ صورتحال کتنی تشویشناک ہوسکتی ہے جو سوشل میڈیا پر موجود بھی نہیں ہیں، لیکن ان کی تصاویر یا چہرے کو ان کی اجازت اور علم کے بغیر مصنوعی ذہانت کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جنت مرزا نے اس معاملے کو صرف اپنی ذات تک محدود رکھنے کے بجائے خواتین کی تصاویر اور شناخت کے ممکنہ غلط استعمال کے وسیع تر مسئلے کی جانب بھی توجہ دلائی۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کسی کی تصویر یا چہرے کو تبدیل کرکے ایسا مواد تیار کیا جا سکتا ہے جس سے متاثرہ شخص کو اپنی ساکھ اور پرائیویسی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سوشل میڈیا پر جنت مرزا کے ردعمل کے بعد مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والی جعلی ویڈیوز اور تصاویر کے غلط استعمال کے حوالے سے بحث ایک بار پھر سامنے آگئی ہے۔ صارفین کی جانب سے بھی اس نوعیت کے مواد کی تیاری اور بغیر اجازت کسی کی شناخت استعمال کرنے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔