اردوان کا اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور

اردوان کا اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور

نیویارک: ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کا ذکر کیا اور جنوبی ایشیا کے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔

رجب طیب اردوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ جنوبی ایشیا میں مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ترک صدر نے اس موقع پر اقوام متحدہ کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اردوان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے عالمی ادارے کے موجودہ ڈھانچے سے متعلق اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔اردوان کی جانب سے مسئلہ کشمیر کا ذکر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت اور ترکیہ کے درمیان پاکستان اور کشمیر سے متعلق انقرہ کے مؤقف پر پیدا ہونے والے سفارتی تناؤ کے بعد دونوں ممالک تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ترکیہ کے صدر ماضی میں بھی بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر سمیت باہمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں، جبکہ بھارت کشمیر کے معاملے پر کسی بھی تیسرے فریق کی ثالثی کی مخالفت کرتا رہا ہے اور اسے دوطرفہ معاملہ قرار دیتا ہے۔اردوان کے حالیہ بیان کے بعد مسئلہ کشمیر ایک بار پھر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران عالمی سفارتی گفتگو کا حصہ بن گیا ہے۔ انقرہ کا مؤقف ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے تنازعات کا حل اقوام متحدہ کے چارٹر اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔