اقوام متحدہ نے بھارت کی ہندوتوا کو ریاستی پالیسی بنانے والی حکومت کے اقدامات سے پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور دونوں ممالک سے تحمل کے ساتھ کام لینے اور کشیدگی بڑھانے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور بھارت کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام مسائل کو بات چیت اور پرامن طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے، اور یہی بہترین راستہ ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب بھارت نے پہلگام میں دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان پر الزام عائد کیا اور سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے سمیت کئی سفارتی اقدامات کیے۔ پاکستان نے بھارت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو پہلگام واقعہ میں ملوث افراد کو تلاش کرنا چاہیے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔پاکستان نے بھارت کے اقدامات کا تفصیلی تجزیہ کیا اور اس پر قومی اتفاق رائے کے ساتھ بھارت کو مفصل جواب دیا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی تصادم کی خواہش نہیں رکھتا اور امن کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم، اگر بھارت نے پاکستان کے قانوناً ملکیتی پانی کو روکنے کی کوشش کی تو اسے جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔پاکستان نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اقدام کو مکمل طور پر رد کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان نے بھارت کے ساتھ بالواسطہ تجارت بند کر دی اور بھارت کی ائیر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی۔ پاکستان نے بھارتیوں کے سارک ویزے بھی منسوخ کر دیے ہیں اور انہیں 30 اپریل تک واپس جانے کا حکم دیا ہے، جبکہ سکھ یاتریوں کو اس ردعمل میں مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔