عباس عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ

عباس عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ

نیویارک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچ گئے، جہاں وہ ایرانی سفارتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔

 ان کا دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ اور خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔عباس عراقچی نیویارک پہنچنے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کرچکے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق بات چیت میں جنرل اسمبلی کے ایجنڈے، بین الاقوامی امن و سلامتی اور خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی وزیر خارجہ نے نیویارک پہنچنے پر ایرانی صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ان کے دورے کا اہم مقصد اقوام متحدہ کے اس عالمی پلیٹ فارم کو ایرانی عوام کے حقوق، مفادات اور ایران کے مؤقف کے اظہار کے لیے استعمال کرنا ہے۔عراقچی کی آمد کو امریکا میں جاری جنگ کے آغاز کے بعد کسی اعلیٰ سطح کے ایرانی عہدیدار کا اہم ترین دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد یہ ان کی پہلی امریکا آمد ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے دورے سے قبل انہوں نے دوحہ میں مختصر قیام بھی کیا، جہاں قطری حکام کے ساتھ خطے کی تازہ صورتحال پر بات چیت کی۔ قطر امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات میں ایک اہم ثالث کے طور پر بھی کردار ادا کرتا رہا ہے۔دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہوچکے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے اور اجلاس کے موقع پر مختلف عالمی رہنماؤں اور حکام سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔امریکی انتظامیہ نے گزشتہ ہفتے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ضروری عملے سمیت ایرانی وفد کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزے دینے کی منظوری دی تھی۔ تاہم ایرانی وفد کے بعض ارکان پر سفری پابندیاں اور نیویارک میں خریداری سے متعلق مخصوص پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا موجودہ اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ میں متعدد محاذوں پر کشیدگی برقرار ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے ساتھ ساتھ یمن، بحیرۂ احمر اور خلیجی خطے کی صورتحال بھی عالمی رہنماؤں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔عباس عراقچی کے دورے کے دوران مختلف ممالک کے حکام اور وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں علاقائی صورتحال، ایران کا مؤقف اور جاری تنازع سمیت دیگر عالمی معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔