ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں، ہزاروں افراد متاثر

ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں، ہزاروں افراد متاثر

ویب ڈیسک: ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب نے ہزاروں افراد کو متاثر کیا ہے۔

دادو کے علاقے مہر میں شدید طغیانی کے باعث 50 سے زائد دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں۔ گھروں، دکانوں اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے، جس سے مقامی آبادی کو بھاری مالی خسارے کا سامنا ہے۔ سجاول کے کچہ علاقوں میں بھی درجنوں دیہات سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں، جہاں متاثرین نے سندھ حکومت سے فوری امداد اور راشن کی فراہمی کی اپیل کی ہے۔کوٹری بیراج پر دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے اور 3 لاکھ 64 ہزار کیوسک پانی ڈیلٹا کی جانب بڑھ رہا ہے، جس سے نشیبی علاقوں کو خطرات لاحق ہیں۔بہاولپور کے علاقے ترندا محمد پناہ میں جنپور شمس نہر میں 10 فٹ چوڑا شگاف پڑنے سے سینکڑوں ایکڑ فصلیں تباہ ہو گئیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ 15 روز سے نواحی علاقے زیرِ آب ہیں اور سڑکوں کے ڈوبنے سے آمدورفت معطل ہے۔ مکینوں نے مستقبل میں نقصان سے بچنے کے لیے فلائی اوور تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

رحیم یار خان کے علاقوں لیاقت پور، علی پور، عارفوالا اور قبولہ میں بھی سیلاب نے تباہی مچائی ہے۔ علی پور کے مکین گھروں کو واپسی کے بعد نقصانات دیکھ کر شدید مایوسی کا شکار ہیں اور حکومت سے بحالی کے اقدامات کی اپیل کر رہے ہیں۔ادھر گڈو اور سکھر بیراج پر پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 60 ہزار کیوسک جبکہ سکھر بیراج پر 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔متاثرہ عوام نے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر امدادی سرگرمیاں تیز کی جائیں تاکہ متاثرہ خاندان دوبارہ اپنی زندگیوں کو بحال کر سکیں۔