اقوام متحدہ اجلاس: اسحاق ڈار کا خواتین کو بااختیار بنانے اور عالمی تعاون پر زور

اقوام متحدہ اجلاس: اسحاق ڈار کا خواتین کو بااختیار بنانے اور عالمی تعاون پر زور

ویب ڈیسک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پاکستان کے امن، علاقائی استحکام، خواتین کو بااختیار بنانے اور کثیرالجہتی تعاون کے عزم کو اجاگر کیا۔

 انہوں نے نیویارک میں مختلف اہم فورمز پر پاکستان کے مؤقف کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔اسحاق ڈار نے خواتین سے متعلق چوتھی عالمی کانفرنس کی 30ویں سالگرہ کے موقع پر خطاب میں 1995 بیجنگ وعدوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ موقع جرات مندانہ اور قابلِ پیمائش اقدامات کی یاد دہانی کراتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا وژن یہی تھا کہ "کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک خواتین مردوں کے شانہ بشانہ نہ ہوں۔"انہوں نے بتایا کہ آج پاکستان میں خواتین سیاست، عدلیہ، سول سروس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ پاکستان پہلا مسلم اکثریتی ملک ہے جس نے خاتون وزیر اعظم منتخب کی اور حال ہی میں پنجاب کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بھی منتخب ہوئی ہیں۔

وزیر خارجہ نے صنفی تشدد کی خصوصی عدالتوں، خواتین پولیس اسٹیشنز اور کمیشنز، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور وزیر اعظم یوتھ پروگرام جیسے اقدامات کو اجاگر کیا جنہوں نے خواتین کو بااختیار بنانے میں مدد دی۔تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ نتائج اب بھی غیر متوازن ہیں اور زور دیا کہ بیجنگ+30 ایکشن ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے مزید مالی وسائل، مؤثر تعاون اور شراکت داری کی ضرورت ہے۔ اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور بیجنگ ڈیکلیریشن کو صنفی مساوات کے لیے دنیا کا سب سے جرات مندانہ عالمی معاہدہ قرار دیا۔