لیبر انسپکٹر اور پھر لیبر افسر بنانے کے کیس میں چیف کمشنر سے وضاحت طلب

اسلام آباد ( آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے8 سینئرز کو سپر سیڈ کر کے پروموشن کے بعد لیبر انسپکٹر اور پھر لیبر افسر بنانے کے کیس میں چیف کمشنر سے وضاحت طلب کرلی۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاہے کہ چیف کمشنر دیکھیں ان کی ناک کے نیچے کیا ہورہا ہے، پوسٹیں خالی کیوں پڑی ہوئی ہیں۔لگتا ہے چیف کمشنر صاحب کو چیئرمین سی ڈی اے کی سیٹ زیادہ پسند ہے، چیف کمشنر ایک دن چیئرمین سی ڈی اے کا کام چھوڑ کر چیف کمشنر کی کرسی پر جا کر بیٹھیں اور دیکھیں کہ کام کیسے چل رہا ہے ،یہ بھی پٹواریوں کی طرح کا کیس ہے کہ پٹواری تعینات نہیں کرتے، آگے منشی رکھ لیتے ہیں، ہم نے پٹواریوں کے کیس میں ڈی سی کو بلایا ہوا ہے۔۔انھوں نے یہ ریمارکس پیرکے روزدیے ہیں۔ چیئرمین سی ڈی اے کے پاس دو عہدے ہونے پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی۔وکیل ریاض حنیف راہی نے مؤقف اپنایا کہ چیئرمین سی ڈی اے کے پاس دو عہدے ہیں وہ چیف کمشنر بھی ہیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اس کورٹ کی ججمنٹس ہیں کہ چیئرمین سی ڈی اے اور چیف کمشنر کا چارج الگ الگ بندے کے پاس ہونا چاہئے، لوگ نوکریوں کو ترس رہے ہیں