پاکستان، آسٹریلیا کا تجارتی حجم ڈھائی ارب ڈالر مزید اضافے کی بڑی گنجائش موجود ہے، دونوں ممالک جمہوری اقدار، دو ایوانی پارلیمانی نظام کی مشترکہ روایات سے عوامی سطح پر جڑے ہیں
پاکستان اور آسٹریلیا کا تعلقات مستحکم بنانے اور عالمی امن کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق، پارلیمانی وفود کے تبادلوں سے تعلقات میں مزید بہتری آ سکتی ہے، آسٹریلوی ہائی کمشنر سے گفتگو
اسلام آباد(آئی این پی )پاکستان اور آسٹریلیا نے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور عالمی و علاقائی امن کیلئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔ یہ اتفاق رائے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی سے آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کی پارلیمنٹ ہائوس میں ہونے والی ملاقات میں کیا گیا ۔ ملاقات میں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر زور دیا گیا، جبکہ تجارت، تعلیم، دفاع اور پارلیمانی تعاون سمیت مختلف شعبوں پر بھی گفتگو ہوئی۔یوسف رضا گیلانی نے سبکدوش ہونے والے ہائی کمشنر کی خدمات کو سراہا۔اس موقع پر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے سفارتی تعلقات 1948 سے قائم ہیں اور وقت کے ساتھ مزید وسعت اختیار کر گئے ہیں، دونوں ممالک جمہوری اقدار، دو ایوانی پارلیمانی نظام کی مشترکہ روایات سے عوامی سطح پر جڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمانی فرینڈشپ گروپس کے کردار کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے، پارلیمانی وفود کے تبادلوں سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آ سکتی ہے، خواتین کو بااختیار بنانے اور زندگی کے ہر شعبے میں شامل کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کا تجارتی حجم ڈھائی ارب ڈالر ہے، مزید اضافے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔چیئرمین سینیٹ نے زرعی ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی، معدنی وسائل اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ پاکستانی برآمدات میں اضافہ چاہتے ہیں، ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات، آئی ٹی سروسز اور خوراکی مصنوعات میں صلاحیت موجود ہے۔یوسف رضا گیلانی نے دونوں ممالک کے ایوانِ صنعت و تجارت اور نجی شعبے کیلئے مشترکہ فورم کے قیام کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان آسٹریلیا میں مختلف شعبوں میں فعال کردار ادا کر رہا ہے، انہوں نے دفاعی تعاون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سائبر سکیورٹی، میری ٹائم آگاہی اور امن مشنز میں مزید تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے