وزیر اعظم کی ٹرمپ سمیت سربراہان مملکت سے ملاقتیں(بیرونی سرمایہ کاری آسکتی ہے) شہباز شریف
سعودی عرب، قطر، ترکی، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور مصر کے رہنمائو ں کے ہمراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقاتیں مالیاتی واقتصادی پالیسی، بین الاقوامی سرمایہ کاری اور عالمی ترقیاتی مسائل پرمرکوز ہوں گی
زراعت، آئی ٹی، معدنیات، ٹورازم اور قابل تجدید توانائی اہم شعبے ہیں جن میں بیرون ممالک سے سرمایہ کاری آ سکتی ہے ، تمام اہم شعبوں میں سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے کے لئے قابل عمل منصوبوں پر کام کیا جائے
اسلام آباد( آئی این پی ) وزیراعظم شہبازشریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک میں موجود ہیں۔دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم شہبازشریف کی اہم ترین ملاقات آج (منگل کو)ہو گی جس میں وہ سعودی عرب، قطر، ترکی، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور مصر کے رہنمائو ں کے ہمراہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ ٹرمپ نے ان مسلم ممالک کے رہنماں کو ایک مشترکہ ملاقات کی دعوت دی ہے، جس میں علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے مسائل پر بات چیت ہوگی۔ وزیر اعظم کی کویتی وزیراعظم شیخ صباح و صدرورلڈ بینک اجے بانگا سے ملاقات بھی آج ہوگی۔ یہ ملاقاتیں مالیاتی واقتصادی پالیسی، بین الاقوامی سرمایہ کاری اور عالمی ترقیاتی مسائل پرمرکوز ہوں گی۔ دورے کے دوران شہباز شریف کلائمیٹ چینج و دیگر بائیلیٹرل اجلاسوں میں حصہ لے کرعالمی ماحولیات اوردو طرفہ تعلقات پرگفتگو کریں گے۔ وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب 26 ستمبر کو ہوگا جس کے بعد وہ 27 ستمبر کو امریکا سے واپس وطن لوٹیں گے۔
لندن(آئی این پی )وزیراعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ زراعت، آئی ٹی، معدنیات، ٹورازم اور قابل تجدید توانائی اہم شعبے ہیں جن میں بیرون ممالک سے سرمایہ کاری آ سکتی ہے ، تمام اہم شعبوں میں سرمایہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے کے لئے قابل عمل منصوبوں پر کام کیا جائے۔وزیر اعظم کی زیر صدارت لندن سے زوم پر پاکستان میں سرمایہ کاری کے حجم، اقتصادی اور تجارتی سرگرمیوں کو بڑھانے کے لیے اعلی سطحی اجلاس ہوا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کہا کہ زراعت، آئی ٹی، معدنیات، ٹورزم اور قابل تجدید توانائی اہم شعبے ہیں جن میں بیرون ممالک سے سرمایہ کاری آ سکتی ہے، سرمایہ کاری کے ساتھ تجارت کو بھی فروغ دینا ہماری پالیسی کا حصہ ہے، تاکہ برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکے۔شہباز شریف نے کہا کہ وزارتوں کو ٹارگٹ دئیے ہیں اور تمام زیر تکمیل منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لانے کی ہدایت کی ہے، قابل عمل منصوبوں کی نشاندہی کر کے ان کو عملی شکل دینے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لئے مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک روڈ میپ اور تبدیلی کا ایجنڈا بنایا جائے تاکہ اپنے اہداف کی حصولی کے لئے ایک منظم انداز میں آگے بڑھا جاسکے۔وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی سرگرمیوں کے روڈ میپ میں نجی شعبے کا کلیدی کردار ہوگا اور انکی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا، ہماری جاری معاشی اور اقتصادی اصلاحات کی پالیسی نے معیشت کو ایک نئی سمت دی ہے اور اس جدت اور شفافیت کی بدولت ملک ترقی کی راہ پر گامزن ھے۔ اجلاس میں وفاقی وزرا مصدق ملک، علی پرویز ملک، محمد جہانزیب، جام کمال، عطا اللہ تارڑ اور احد خان چیمہ شریک تھے۔