اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین (UNRWA) نے زور دیا ہے کہ غزہ میں اقوام متحدہ کو فوری طور پر امداد کی فراہمی کی اجازت دی جائے تاکہ انسانی جانیں بچائی جا سکیں اور متاثرہ آبادی تک رسائی ممکن ہو۔
تحقیقات کا مطالبہ: امداد کے دوران شہادتیں
عرب میڈیا کے مطابق، انروا نے کہا ہے کہ غذہ کے حصول کے لیے شہید اور زخمی ہونے والے فلسطینیوں کے حوالے سے تحقیقات ہونی چاہیے۔ ادارے کے مطابق یہ واقعات نہایت تشویش ناک اور انسانی ہمدردی کے تقاضوں کے برخلاف ہیں۔
غزہ میں امداد کی تقسیم: شدید رکاوٹیں
انروا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں کہا کہ جنگ سے قبل اقوام متحدہ کی جانب سے غزہ کی پٹی میں 400 سے زائد امدادی پوائنٹس کام کر رہے تھے، جہاں سے متاثرین کو غذا اور بنیادی ضروریات فراہم کی جا رہی تھیں۔تاہم اب غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن کے ذریعے صرف چار میگا سائٹس پر امداد دی جا رہی ہے — ایک غزہ کے وسطی حصے میں اور تین جنوبی علاقے میں، جبکہ شمالی غزہ میں کوئی امدادی مرکز موجود نہیں۔
امداد کی تقسیم میں انصاف، حفاظت اور رسائی کا مطالبہ
انروا نے اپنے بیان میں کہا:"امداد کی تقسیم سب کے لیے برابر رسائی، احترام اور تحفظ کے اصولوں کے تحت ہونی چاہیے۔"
اسرائیلی حملے: امداد لینے والے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا گیا
غزہ میڈیا آفس کے مطابق، صرف آج صبح سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 73 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 33 فلسطینی امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران قابض اسرائیلی افواج کی بلااشتعال فائرنگ کا نشانہ بنے۔ادارے نے بتایا کہ صرف گزشتہ 48 گھنٹوں میں 300 فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں۔
بین الاقوامی برادری سے مطالبہ
انروا اور دیگر امدادی تنظیموں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ میں جاری انسانی المیے کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور امدادی اداروں کو مکمل رسائی دی جائے تاکہ بھوک، افلاس، اور بیماری سے مرنے والے شہریوں کو بچایا جا سکے۔