(ن )لیگ والے کسی وعدے پر پورے نہیں اترے،اب کچھ کرنا پڑے گا:رانا سعید

سب صوبوں کو ساتھ لیکر چلیں گے تو ملک چلے گا،پنجاب اکیلا فیصلے کریگا تو پاکستا ن نہیں چلے گا،پنجاب میں پانی کی زیادہ ضرورت ہے تو سندھ اور بلوچستان کو اعتماد میں لیں
( ن) لیگ نے اتحادیوں کو اعتماد میں لے،یکطرفہ فیصلوں کے اچھے اثرات مرتب نہیں ہونگے، سندھ نے زرعی ٹیکس نہیں لگایا،پنجاب نے خاموشی سے آبیانہ بم کسانوں پرگرا دیا
وزیر اعلیٰ پنجاب بابوئوں کے کہنے پر چلنے کے بجائے ملک کا سوچے، اسمبلیوں میں بیٹھے زمیندار بزدل ہیں،سینئر نائب صدرپی پی وسطی پنجاب کی دیگر رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس
لاہور(خصوصی رپورٹر )سابق وفاقی وزیر ٹیکسٹائل اور پاکستان پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے سینئر نائب صدر اگلے ماہ ہونیوالی سی ای سی میں حکومت سے علیحدگی کا مطالبہ کرینگے کیوں کہ ہمارے کارکن( ن) لیگ کیساتھ معاہدے کیخلاف ہیں،(ن )لیگ والے کسی وعدے پر پورے نہیں اترے،ہم کب تک دھکا لگائیں گے،اب کچھ کرنا پڑے گا،(ن )لیگ والے نہ سمجھے تو سمجھانا ہڑیگا۔ان خیالات کا اظہاررانا سعید نے پیپلز سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں حاجی عزیز الرحمن چن اور بشریٰ منظور مانیکا کیساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔رانا فاروق سعید نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اہم فیصلوں میں صوبوں کو ساتھ رکھنے کی روایت رکھی ہے،صوبے  چار اکائیاں ہیں یہ ملتے ہیں تو پاکستان بنتا ہے۔انکا کہنا تھا کہ سندھ اور بلوچستان کے مسائل دیگر صوبوں سے زیادہ ہیں،بھٹو نے منگلا ڈیم مکمل کر کے تربیلا ڈیم شروع کیا،کالا باغ ڈیم کا پانی کے پی بلوچستان اور سندھ کو ملنا تھا مگر کالا باغ ڈیم مارشل لاء لگنے کی وجہ سے نہیں بن سکا،یہ وہی لوگ ہیں جو اکائیوں کو اکٹھے نہیں ہونے دیتے۔انہوں نے سوال کیا کہ ستلج،راوی اور چناب کس نے بیچے؟،فاطمہ جناح کہتی تھیں کہ حکمرانو ںنے ہماری ندیاں بیچ کھائی ہیںجو اصل میں ہمارے دریا تھے۔رانا فاروق سعید نے کہا کہ ہمارا دشمن ہمیں کچھ دینے کو تیار نہیں،ہم بہت بڑ ے بحران میں ہیں،سب صوبوں کو ساتھ لیکر چلیں گے تو ملک چلے گا،پنجاب اکیلا فیصلے کریگا تو پاکستا ن نہیں چلے گا،پنجاب میں پانی کی زیادہ ضرورت ہے تو سندھ اور بلوچستان کو اعتماد میں لیں،ڈیم آپ بنا نہیں رہے،آئین میں تبدیلیاں کر لی ہیں۔رانا فاروق سعید نے زور دیکر کہا کہ( ن) لیگ نے معیشت ٹھیک کرنے کے لیے جو فیصلے کیے تھے اس پر اتحادیوں کو اعتماد میں لے،یکطرفہ فیصلوں کے اچھے اثرات مرتب نہیں ہونگے۔انہوں نے کہا کہ سندھ نے زرعی ٹیکس نہیں لگایا،پنجاب نے خاموشی سے آبیانہ بم کسانوں پرگرا دیا ہے،ایک ایکڑ پر 1800 سے 2500تک آبیانہ ٹھونس دیا گیا ہے۔میری درخواست ہے پنجاب کی وزیر اعلیٰ بابوئوں کے کہنے پر چلنے کے بجائے ملک کا سوچے، اسمبلیوں میں بیٹھے زمیندار بزدل ہیں،وہ اپنی وزیر اعلیٰ سے بات کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ کسان ٹریکٹر،کھاد،بجلی اور بیج سمیت تمام اشیاء پر ٹیکس دیتے ہیں۔زمیندار کو ایک ایکڑ کا بیج 5000میں اور گندم 2600میں لے رہے ہیں اورابھی تک گندم کی سپورٹ پرائس کا اعلان نہیں کیا گیا۔کسان بالآخر گندم اگانے بند کر دیگاجبکہ آپکے پاس زر مبادلہ نہیں۔رانا فاروق سعید نے کہا کہ گھی، سبزی ،انڈے سمیت ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے،پیداوار نہیں ہو گی تو کسان ٹیکس کہاں سے دے گا؟، کسانوں میں پیدا ہونے والے بد دلی سے حالات خراب ہو سکتے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے ارکان پنجاب اسمبلی نے زرعی ٹیکس کیخلاف واک آؤٹ کیا ہے۔میڈیا سوالوں کے جواب میں رانا فاروق سعید نے کہا کہ حکومت وقت کو پی ٹی آئی کیساتھ مذاکرات میں پہل کرنی چاہیے۔پی پی وسطی پنجاب کے صدر راجا پرویز اشرف کی کوآرڈینیٹر بشریٰ منظور مانیکا نے کہا کہ کسانوں پر ٹیکس بم گرا ئے جا رہے ہیں،پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ کسانوں کا ساتھ دیا ہے،کسانوں کو پیچھے کر کے انڈسٹری لگانے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔