کیوبا پر دبائو اور دھمکیوں کا سلسلہ بند کیا جائے، چین کا امریکہ کو انتباہ

 بیجنگ ہوانا کے شانہ بشانہ، سیاسی مقاصد کے لیے عدالتی نظام کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے
بیجنگ(آئی این پی )چین نے کیوبا کے سابق صدر رال کاسترو کے خلاف امریکی عدالت کی جانب سے فردِ جرم عائد کیے جانے کے بعد واشنگٹن پر سخت تنقید کرتے ہوئے امریکا سے کیوبا کے خلاف دھمکیوں، پابندیوں اور عدالتی دبا کی پالیسی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ غیرملکی میڈیارپورٹ کے مطابق چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکن نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا کو کیوبا کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکیاں بند کرنا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ بیجنگ بیرونی مداخلت کے خلاف ہوانا کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور سیاسی مقاصد کے لیے عدالتی نظام کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی عدالت نے سابق کیوبن صدر رال کاسترو اور دیگر پانچ افراد پر 1996 میں دو طیارے مار گرانے اور امریکی شہریوں کے قتل کی سازش کے الزامات عائد کیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان طیاروں کے حملے میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں تین امریکی شہری شامل تھے۔دوسری جانب کیوبا کے موجودہ صدر میگوئل ڈیاز کانیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی ہتھکنڈہ قرار دیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے بھی الزام عائد کیا کہ امریکا پابندیوں اور عدالتی نظام کو سیاسی دبا کے آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق امریکی پابندیوں میں حالیہ اضافے کے بعد کیوبا میں توانائی اور خوراک کے شعبوں پر بھی دبائو بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔