سیاسی بیانات یا اختلافات کی بنیاد پر تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں، تمام تحفظات افہام و تفہیم سے حل کئے جائیں:وزیراعظم کی اجلاس میں ہدایات‘مریم نواز سے مشاورت کافیصلہ
پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ بھائی چارے پر مبنی تعلقات کی باقاعدہ شکل ہے، ہر مسلمان مقدس مقامات کے تحفظ کیلئے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے: پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل سے خطاب
اسلام آباد (آن لائن‘آئی این پی) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں پارٹی اور اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے درمیان حالیہ سیاسی اختلافات کے پس منظر اور اس کے حل کے طریقہ کار پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، طارق فضل چودھری، رانا تنویر حسین، اور مشیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے شرکت کی۔اجلاس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان بڑھتے سیاسی اختلافات، میڈیا بیانات، اور پارٹی سطح پر پیدا ہونے والی غلط فہمیوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اجلاس کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے درمیان حالیہ ملاقاتوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔وفاقی وزراء نے موقف اختیار کیا کہ پیپلز پارٹی کے بیشتر تحفظات وفاقی حکومت سے نہیں بلکہ صوبہ پنجاب کی حکومت سے متعلق ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ اتحادی جماعتوں کے درمیان اعتماد اور رابطوں کا تسلسل برقرار رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا سیاسی بیانات یا اختلافات کی بنیاد پر تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں، تمام تحفظات افہام و تفہیم سے حل کیے جائیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اسپیکر ایاز صادق اور وفاقی وزراء کو ہدایت کی وہ پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت سے ملاقاتیں جاری رکھیں اور کسی بھی غلط فہمی کو بات چیت کے ذریعے دور کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی مستحکم کارکردگی کے لیے اتحادی جماعتوں میں ہم آہنگی ناگزیر ہے۔اجلاس میں پیپلز پارٹی کے ساتھ رابطوں کو مزید مؤثر بنانے، رابطہ کمیٹی کے کردار کو فعال کرنے، اور مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے مختلف تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اس معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے بھی مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ پنجاب حکومت سے متعلق تحفظات پر براہِ راست بات کی جا سکے۔شرکائے اجلاس نے تجویز دی کہ دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے متنازعہ بیان بازی کا سلسلہ بند کیا جائے تاکہ سیاسی ماحول میں کشیدگی نہ بڑھے۔وزیراعظم نے اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو ذمہ دارانہ سیاست اپنانی ہوگی، کیونکہ ملکی استحکام سیاسی برداشت اور رابطے سے ہی ممکن ہے۔دریںوزیراعظم نے پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا سعودی عرب نے ہر مشکل آزمائش میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ سعودی بھائی، بہنوں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے بے مثال محبت دکھائی، سعودی عرب نے ہر مشکل اور آزمائش میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا پاکستان سے تعلق غیرمتزلزل اور مستقل عزم پر مبنی ہے، سعودی عرب کا یہ عزم ہمارے تعلقات کی تاریخ میں ہمیشہ نمایاں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ بھائی چارے پر مبنی تعلقات کی باقاعدہ شکل ہے، شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہر مسلمان مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے اپنی جان قربان کرنے کو تیار ہے۔