چین نے ہارورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی طلبا کی داخلہ پر امریکی پابندی کی شدید مذمت کردی

چین نے ہارورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی طلبا کی داخلہ پر امریکی پابندی کی شدید مذمت کردی

چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ہارورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی طلبا کو داخلہ دینے پر پابندی کے فیصلے کی سخت مذمت کی ہے۔

 بیجنگ میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تعلیمی تعاون کو سیاسی رنگ دینا ناقابل قبول ہے اور چین اس قسم کی کارروائیوں کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ترجمان نے بیان دیا کہ امریکہ کی جانب سے ہارورڈ یونیورسٹی کو بین الاقوامی طلبا کے داخلے پر پابندی لگانے کا فیصلہ تعلیمی آزادی اور بین الاقوامی تعاون کے اصولوں کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف امریکہ کے اپنے تشخص اور بین الاقوامی موقف کو نقصان پہنچائے گا بلکہ عالمی تعلیمی کمیونٹی میں بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔چینی وزارت خارجہ کے مطابق، تعلیم کو سیاسی میدان بنانے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات پر منفی اثر پڑے گا اور عالمی سطح پر تعلیمی رابطے کمزور ہوں گے۔ ترجمان نے کہا کہ چین تعلیم اور ثقافت کے میدان میں تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے اور ایسے اقدامات جو تعلیمی روابط کو نقصان پہنچائیں، ان کی حمایت نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ہارورڈ یونیورسٹی کو بین الاقوامی طلبا کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے، جس کا مقصد امریکہ کی سیکیورٹی کو بہتر بنانا اور ملک میں تعلیمی اداروں کی نگرانی کو سخت کرنا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم اس فیصلے پر تعلیمی اور سفارتی حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں جن میں اسے تعلیمی آزادی پر ایک حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔یہ پابندی امریکی اور چینی تعلقات کے تناؤ کے درمیان آئی ہے جہاں تجارتی اور سیکیورٹی مسائل پہلے ہی دونوں ممالک کے تعلقات کو متاثر کر رہے ہیں۔ چین نے کہا ہے کہ وہ تمام ممکنہ راستے تلاش کرے گا تاکہ تعلیمی تعاون کو برقرار رکھا جا سکے اور اس طرح کے سیاسی فیصلوں کے منفی اثرات کو کم کیا جا سکے۔