ویب ڈیسک: وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیوٹ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر ٹرمپ کا یہ مطالبہ ہے کہ ہارورڈ یونیورسٹی کو معافی مانگنی چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہارورڈ یونیورسٹی کو وفاقی قوانین پر عمل درآمد کرنا چاہیے، اور خاص طور پر یونیورسٹی کو اپنے کیمپس میں یہودی امریکی طلبا کے خلاف کسی بھی قسم کی یہود دشمنی پر معافی مانگنی چاہیے۔ٹرمپ انتظامیہ نے ہارورڈ یونیورسٹی سے مزید مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے طلبہ اور فیکلٹی کے اختیارات کو کم کرے اور غیر ملکی طلبہ کی خلاف ورزیوں کو فوراً وفاقی حکام کو رپورٹ کرے۔
تاہم، ہارورڈ یونیورسٹی کے صدر نے ان مطالبات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان کے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مطالبات یونیورسٹی کی خودمختاری اور آزادی کے خلاف ہیں، اور انہیں پورا کرنا ممکن نہیں ہے۔یہ تنازعہ امریکہ میں تعلیم کے نظام، آزادی اظہار اور مختلف ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے حقوق پر ایک اہم بحث کا آغاز کر رہا ہے۔