ویب ڈیسک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قطر پر حالیہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر کشیدگی کے خاتمے کی اپیل کی ہے، تاہم بیان میں حملہ کرنے والے اسرائیل کا نام شامل نہیں کیا گیا۔
سلامتی کونسل کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی جاتی ہے اور دوحہ کو اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کرنے والے "اہم شراکت دار" کے طور پر سراہا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں انسانی بحران کا خاتمہ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔حملے کے بعد قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچے۔ انہوں نے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ قطر ثالثی کا کردار جاری رکھے گا لیکن اپنی خودمختاری پر کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے اسرائیلی قیادت کو "خونخوار انتہاپسند" قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیل کے اقدام پر ناخوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ دوحہ میں رہائشی علاقے پر حملہ دونوں ممالک کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھاتا۔ امریکی نائب سفیر ڈوروتھی شی نے کہا کہ قطر جیسی خودمختار ریاست پر یکطرفہ بمباری غیر مناسب ہے، تاہم انہوں نے اسرائیل کے حماس کے خاتمے کے مقصد کو "قابل فہم" قرار دیا۔اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری برائے سیاسی امور، روزمیری ڈی کارلو نے اس حملے کو خطرناک اور غیر معمولی اضافہ قرار دیا اور کہا کہ یہ خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
پاکستان کا ردعمل:
پاکستان نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ صرف مذمت کافی نہیں، اسرائیل کو اس غیرقانونی اور بلاجواز جارحیت پر جوابدہ بھی ٹھہرایا جانا چاہیے۔ پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر آصف افتخار احمد نے کہا کہ یہ حملہ ایک "اشتعال انگیز اور خطرناک اقدام" ہے جو نہ صرف ایک خودمختار ریاست کی خودمختاری کے خلاف ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔سفیر آصف افتخار نے مزید کہا کہ اسرائیل نے رہائشی علاقے کو نشانہ بنا کر عام شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا، جو عالمی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ قطر کے دورے پر ہیں تاکہ قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی اور خطے میں امن و استحکام کی حمایت کی جا سکے۔پاکستان نے زور دیا کہ اسرائیل کے مسلسل جارحانہ اقدامات، جن میں غزہ، شام، لبنان، ایران اور یمن میں فوجی کارروائیاں شامل ہیں، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں، اور یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو کمزور کرنے اور دنیا میں استثنیٰ کی خطرناک روایت قائم کرنے کا باعث بنتے ہیں۔