اسلام آباد: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اور سیکریٹری داخلہ نے بھارت کی پراکسی وار کو "فتنہ الہندوستان" قرار دے دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خضدار حملہ فتنہ الہندوستان کا کیا ہوا ایک منصوبہ بند حملہ تھا جس کی پشت پناہی بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کرتی ہے۔مشترکہ پریس کانفرنس میں سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ بھارت کا آپریشن سندور مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، اور اب بھارت نے دہشت گرد پراکسیز کو بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کا حکم دیا ہے۔ حکومت پاکستان ان نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے اور ذمہ داروں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ فتنہ الہندوستان اپریل 2024 سے بلوچستان میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے، 11 مارچ کو جعفر ایکسپریس میں 30 سے زائد خواتین، بچے اور دیگر شہری ہلاک ہوئے تھے۔
انہوں نے کہا کہ 6 اور 7 مئی کو بھی بھارتی ہدایات پر شہریوں پر حملے کیے گئے، جبکہ 6 سے 10 مئی کے درمیان فتنہ الہندوستان نے 33 دہشت گردانہ حملے کیے۔انہوں نے مزید کہا کہ گرفتار دہشت گردوں نے بھارت کی پشت پناہی کا اعتراف کیا ہے اور بھارت خطے میں امن کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ 21 مئی کو فتنہ الہندوستان نے بھارت کے حکم پر دہشت گرد کارروائیاں انجام دی ہیں۔ سیکریٹری داخلہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کی ان کارروائیوں پر سخت کارروائی کی جائے گی اور ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔