16 سالہ لڑکا جاں بحق، 7 شہری زخمی، سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 2 دہشت گرد ہلاک
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب فتنہ الہندوستان کے مسلح دہشت گردوں نے سرکاری دفاتر پر حملہ کر دیا۔ حملے میں سولہ سالہ نوجوان جاں بحق ہو گیا جبکہ 7 شہری زخمی ہوئے۔ تاہم، سیکیورٹی فورسز کی فوری اور منظم کارروائی سے بڑے نقصان کو روک لیا گیا اور 2 دہشت گرد ہلاک اور 3 زخمی کر دیے گئے۔
حملے کی تفصیل:
حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے مطابق:
دہشت گردوں نے بنک، تحصیل آفس اور دیگر سرکاری دفاتر کو نشانہ بنایا۔
اندھا دھند فائرنگ سے 16 سالہ لڑکا جان کی بازی ہار گیا اور 7 شہری زخمی ہو گئے۔
دہشتگرد حملہ کے بعد کچھ دیر علاقے میں چھپ گئے، مگر فورسز نے بروقت رسپانس دیا۔
سیکیورٹی فورسز کا فوری ایکشن:
واقعے کے فوراً بعد ایف سی (فرنٹیئر کور)، سی ٹی ڈی اور لیویز فورس نے موقع پر پہنچ کر علاقے کا محاصرہ کر لیا۔
سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کو گھیر کر شدید فائرنگ کا تبادلہ کیا۔
اس کارروائی کے دوران:
2 دہشت گرد مارے گئے
3 دہشت گرد زخمی ہوئے
دہشت گردوں کے کچھ ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جن کی تلاش جاری ہے۔
کلیئرنس آپریشن اور انٹیلیجنس کارروائیاں:
ترجمان کے مطابق:
علاقے میں منظم کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر دہشت گردوں کے سہولت کاروں کی تلاش کا عمل بھی جاری ہے۔
سیکیورٹی ادارے ہر پہلو سے علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
ترجمان کا مؤقف:
"سیکیورٹی فورسز کا بروقت اور مؤثر ردِ عمل مزید جانی نقصان کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا ہے۔ دہشت گردی کی ایسی کارروائیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔"
پس منظر:
فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد بلوچستان میں سرگرم تخریبی کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں، جنہیں غیر ملکی سرپرستی کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ ماضی میں بھی مستونگ، کوئٹہ اور دیگر حساس علاقوں میں اہم حملوں میں ان کا نام آ چکا ہے۔