موجود پالیسوں کی وجہ سے پاکستان جنوبی ایشیائی خطے میں کم ترین سطح پر آجائے گا
برآمدی منڈیوں میں علاقائی مینوفیکچرز کا مقابلہ کرنے کا مناسب موقع فراہم کیا جائے
لاہور(خصوصی رپورٹر)پاکستان کیمیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے اجلاس میں حکومت سے بجلی قیمتوں اور شرح سود میں کمی کا مطالبہ کردیا جبکہدرآمدی محصولات میں ممکنہ کمی پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے ، اجلاس میں کہا گیا ہے موجود پالیسوں کی وجہ سے پاکستان جنوبی ایشیائی خطے میں کم ترین سطح پر آجائے گا، گزشتہ چند ماہ سے وزارت کامرس انڈسٹری اینڈ پروڈکشن سے اس بات پر زور دیا گیا ہے مقامی مینوفیکچرنگ پہلے ہی بجلی کی زائدقیمتوں ، طویل اور تکلیف دہ عمل کی وجہ سے بہت زیادہ دباؤ کا شکار ہے ،سامان کی درآمد پر ڈیوٹی میں کمی،ٹیکس کے بوجھ،زیادہ شرح سود اور نئی سرمایہ کاری کے لیے ڈالر کا بندوبست کرنے میں چیلنجز کا سامنا ہے حکومت نے حال ہی میں کسٹم ڈیوٹی کم کرنے کا اعلان کیا ہے، اے سی ڈیز، آر ڈیز اور کو ختم کردیا گیا پی سی ایم اے نے مزید کہا ٹیرف پالیسی 2025-30 ان اقدامات سے اوسط درآمدی ٹیرف میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان جنوبی ایشیائی خطے میں کم ترین سطح پر آجائے گا، درآمدی محصولات میں کمی کے ساتھ پاکستان میں کاروبار کرنے کی زیادہ قیمت ملکی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کرنے والوں کو ادا کرنا پڑے گی اس لیے تمام صنعتیں اپنے توسیعی منصوبوں پر نظر ثانی کر رہی ہیں۔ پی سی ایم اے نے حکوومت پر زور دیا وہ توانائی کی قیمت اور شرح سود کو علاقائی سطح پر لائے صنعت کو برآمدی منڈیوں میں علاقائی مینوفیکچرز کا مقابلہ کرنے کا مناسب موقع فراہم کرے ‘نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت ڈیوٹی میں کمی پر دوبارہ غور کرے۔