پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے اپنے موقف کو واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک عالمی امن کا داعی ہے، لیکن جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا دارومدار مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل پر ہے۔
پاکستان بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے مظلوم شہریوں کے لیے اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا اور ان کی آزادی و حق خود ارادیت کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔ساتھ ہی پاکستان نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ پاکستان نے اپنے کردار کو ایک ذمہ دار عالمی ریاست کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کی سفارت کاری متوازن اور فعال ہے، جس کا محور علاقائی استحکام، باہمی مکالمہ اور احترام ہے۔ پاکستان مذاکرات کو ہی پائیدار امن کا واحد راستہ قرار دیتا ہے۔یوم پاکستان کے موقع پر پاکستان نے تحریک پاکستان کے قائدین اور کارکنوں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور افواجِ پاکستان و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بہادر جوانوں کو سلام پیش کیا، جنہوں نے ملک کی آزادی، خود مختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کے گراں قدر نذرانے دیے۔
ملک کی پوری قوم اپنے تابندہ روایات کو برقرار رکھنے اور کسی بھی آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے مستعد اور پرعزم ہے۔پاکستان نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قوم کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے جو ملک کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچا سکتی ہیں۔ دور رس حکمت عملی، مؤثر پالیسی، مخلصانہ کاوشیں اور قومی اتحاد کے ذریعے پاکستان عالمی سطح پر وہ مقام حاصل کر سکتا ہے جس کا خواب بانیانِ پاکستان نے دیکھا تھا۔بیان میں کہا گیا کہ پرعزم اور متحد قوم جب ایک مقصد کے لیے متحد ہو جائے تو اس کے سامنے کوئی چیلنج ناقابل تسخیر نہیں رہتا۔ پاکستان اپنی لازوال جدوجہد، انتھک محنت اور مشترکہ کوشش کے ذریعے مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کی تعمیر جاری رکھے گا۔
اختتاماً کہا گیا:
پاکستان زندہ باد!