وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشی سفارتکاری کی کوششوں کے ثمرات آنا شروع ہوگئے ہیں اور پاکستان کی معیشت میں استحکام آ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ زید النہیان کے ساتھ ملاقات بہت مفید رہی، جس میں باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور سرمایہ کاری کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے اماراتی صدر سے قرض ہدف کے حوالے سے سرمایہ کاری کی درخواست کی تھی جس پر شیخ زید النہیان نے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یو اے ای نے جنوری میں پاکستان کو 2 ارب ڈالر کا قرض رول اوور کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے پاکستان کی مالی صورتحال میں بہتری آئے گی۔شہباز شریف نے کہا کہ معیشت میں استحکام آ رہا ہے اور اس کی ایک مثال ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ ہے، جو خوش آئند ہے۔ تاہم، وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اگر بجلی کی قیمتیں کم نہیں کی گئیں تو پاکستان کی صنعت، زراعت اور ایکسپورٹ میں ترقی ممکن نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں کمی لانے کے لئے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا اور اس سلسلے میں ہمارے ساتھی ہمارے ساتھ بات چیت کریں گے۔
وزیراعظم نے لوئر کرم میں امن معاہدے کے بعد ڈپٹی کمشنر پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ تھا جس میں امن معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر کا علاج جاری ہے اور وہ تمام زخمیوں کی صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں۔علاوہ ازیں، وزیراعظم نے انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے کے خلاف حکومت کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ کی قیادت میں ذیلی ادارے اس مکروہ دھندے کے خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں پوری یکسوئی کے ساتھ اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ اس غیر قانونی تجارت کا خاتمہ ہو سکے۔