ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران کا فی الحال بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کاروں کو اپنے جوہری مقامات تک رسائی دینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ سوئٹزرلینڈ میں جاری مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی سے کوئی ملاقات نہیں کی۔اسماعیل بقائی کے مطابق ایران کا موجودہ ردِعمل “ثابت قدمی کی کہانی” ہے اور یہ اقدامات ملک کے دفاع، وقار اور قومی غیرت کے تحفظ کے لیے کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری دباؤ اور اقدامات کا اصل مقصد پہلے ایران کی تہذیب اور ڈھانچے کو کمزور کرنا تھا، تاہم اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور مالی و اقتصادی پہلو زیادہ نمایاں ہو گئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ایران کے منجمد اثاثوں کے استعمال سے متعلق کسی قسم کی پابندی یا رکاوٹ نہیں ہے، اور ایرانی اثاثے مکمل آزادی کے ساتھ استعمال کیے جائیں گے۔اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اپنی پالیسیوں پر قائم رہے گا، اور جوہری پروگرام سے متعلق فیصلے ملکی مفاد کے مطابق ہی کیے جائیں گے۔