کوئی خفیہ ڈیل نہیں، تمام امور معاہدے کا حصہ ہیں، پاکستان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں: اسحاق ڈار

کوئی خفیہ ڈیل نہیں، تمام امور معاہدے کا حصہ ہیں، پاکستان کا کوئی ذاتی مفاد نہیں: اسحاق ڈار

نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں کہ کسی قسم کی خفیہ ڈیل ہوئی ہے، اور تمام امور تحریری طور پر اسلام آباد معاہدے کا حصہ ہیں۔

 ان کے مطابق پاکستان نے اس پورے عمل میں کوئی ذاتی مفاد نہیں رکھا بلکہ خالصتاً خطے اور عالمی امن کے لیے مخلصانہ ثالثی کردار ادا کیا۔عرب میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ 28 فروری کو اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد پاکستان نے فوری طور پر اس کی مذمت کی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں شروع کیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں فریقین کے درمیان ابتدائی سیز فائر ممکن ہوا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے وفود کے درمیان 21 گھنٹے طویل مذاکرات کے 6 دور ہوئے، اور 47 سال بعد پہلی بار دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات اسلام آباد میں منعقد ہوئے۔ ان مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، ایرانی اسپیکر اور وزیر خارجہ نے اپنے وفود کی نمائندگی کی۔اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان کی جانب سے وہ خود، چیف آف ڈیفنس فورسز اور قومی سلامتی مشیر نے بطور ثالث اور گواہ شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے دوران پاکستان نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی مسلسل اعتماد میں رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ پر مشتمل ایک علاقائی فورم تشکیل پا چکا ہے، جسے انہوں نے “آر فور فورم” قرار دیا، جبکہ قطر، بحرین، کویت، اردن، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، جاپان اور چین نے بھی اس کوشش کی حمایت کی۔نائب وزیراعظم نے بتایا کہ 18 جون کو اسلام آباد میں مفاہمت کی یادداشت پر حتمی دستخط ہوئے۔ ان کے مطابق یہ فورم کسی بلاک کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ایک وسیع علاقائی پلیٹ فارم ہے جو مختلف خطوں کو جوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران عالمی انرجی سپلائی چین متاثر ہوئی، تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا اور عالمی معیشت کو بڑا نقصان پہنچا۔ اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان نے عوامی ریلیف کے لیے عارضی طور پر بھاری پیٹرولیم سبسڈی دی اور عالمی قیمتیں کم ہونے پر یہ ریلیف فوری طور پر عوام تک منتقل کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ نقل و حرکت کے لیے 60 دن کا فریم ورک طے کیا گیا ہے اور وہاں کسی قسم کی ٹرانزٹ یا سروس فیس لاگو نہیں ہوگی۔اسحاق ڈار کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا آغاز بھی ہو چکا ہے، جس کے لیے تین تکنیکی گروپس تشکیل دیے گئے ہیں۔ یہ گروپس نیوکلیئر پروگرام، پابندیوں اور منجمد اثاثوں، اور لبنان کی صورتحال جیسے معاملات پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنان پر کشیدگی کے باعث مذاکرات میں عارضی تاخیر ضرور ہوئی، تاہم فریقین کی رضامندی سے توسیع کی گنجائش موجود ہے۔